سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 88 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 88

88 سبیل الرشاد جلد چہارم اُن عہدیداروں میں اپنے آپ کو شمار کرنا چاہئے جن سے لوگ محبت رکھتے ہوں۔جس کا ایک حدیث میں یوں ذکر آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے بہترین سردار وہ ہیں جن سے تم محبت کرتے ہو اور وہ تم سے محبت کرتے ہیں۔تم ان کے لئے دعا کرتے ہواور وہ تمہارے لئے دعا کرتے ہیں۔مسلم کتاب الامارة - باب خيار الائمة و شرارهم ) تو اگر تقویٰ پر چلتے ہوئے تمام عہدیدار اپنے فرائض نبھا ئیں اور جب فیصلے کرنے ہوں تو خالی الذہن ہو کر کیا کریں، کسی طرف جھکاؤ کے بغیر کیا کریں۔جیسا کہ پہلے بھی میں کئی دفعہ کہہ چکا ہوں کہ تقویٰ یہی ہے کہ اگر اپنے خلاف یا اپنے عزیز کے خلاف بھی گواہی دینی ہو تو دے دیں۔لیکن انصاف کے تقاضے پورے کریں تو پھر ایسے عہدیدار اللہ کے محبوب بن رہے ہوں گے جیسا کہ ایک حدیث میں ذکر آتا ہے۔حضرت ابوسعید بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کولوگوں میں سے زیادہ محبوب اور ان سے زیادہ قریب انصاف پسند حا کم ہوگا اور سخت نا پسندیدہ اور سب سے زیادہ دور ظالم حاکم ہوگا۔عہد یدار اپنے دائرے میں نگران ہے ( ترمذی ابواب الاحکام باب ماجاء فی الامام العادل ) یہاں حاکم تو نہیں ہیں لیکن عہدے بہر حال آپ کے سپرد کئے گئے ہیں، ایک ذمہ واری آپ کے سپر د کئی گئی ہے۔ایک دائرے میں آپ نگران بنائے گئے ہیں۔پس یہ جو خدمت کے مواقع دیئے گئے ہیں یہ حکم چلانے کے لئے نہیں دیئے گئے بلکہ خلیفہ وقت کی نمائندگی میں انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے لوگوں کی خدمت کرنے کے لئے ہیں۔خلیفہ وقت کے فرائض کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن کریم میں یہ فرما دیا ہے کہ فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيْلِ اللَّهِ ( ص : 27) یعنی پس تو لوگوں میں انصاف کے ساتھ فیصلے کر اور اپنی خواہش کی پیروی مت کر۔وہ تجھے اللہ کے راستے سے بھٹکا دے گی۔عہدیداران سے خلیفہ وقت نے انصاف کے ساتھ فرائض ادا کرنے کی امید رکھی ہے پس جب عہدیداران پر خلیفہ وقت نے اعتماد کیا ہے اور اُن سے انصاف کے ساتھ اپنے فرائض ادا کرنے کی امید رکھی ہے۔کیونکہ ہر جگہ تو خلیفہ وقت کا ہر فیصلہ کے لئے پہنچنا مشکل ہے ہممکن ہی نہیں ہے۔تو اگر عہدیداران ، جن میں قاضی صاحبان بھی ہیں، دوسرے عہدیداران بھی ہیں اپنے فرائض انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ادا نہیں کرتے تو پھر اللہ کی گرفت کے نیچے آتے ہیں۔میرے نزدیک وہ