سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 101 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 101

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 81 عہدیداروں کا چناؤ آپ انتخاب کے ذریعے سے کرتے ہیں۔ عموماً اسی طرح ہوتا ہے، سوائے اس کے کہ بعض خاص حالات میں بعض جگہ نامزدگی کر دی جائے اور یہ جو نامزدگی ہے یہ بھی مرکز یا خلیفہ وقت کی منظوری سے ہوتی ہے۔ تو بہر حال جب یہ انتخاب اکثریت کی خواہش کے مطابق ہو جاتا ہے تو پھر جس نے منتخب عہدیدار کو ووٹ نہیں بھی دیا اس کا بھی کام ہے کہ مکمل اطاعت اور فرمانبرداری کے ساتھ عہدیدار کے ساتھ رہے۔ پھر تمام جماعت اگر اس طرح رہے گی تو ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح بن کے رہے گی، بنیان مرصوص کی طرح بن کے رہے گی۔ یہ تمام باتیں میں اس لئے نہیں کہہ رہا کہ خدانخواستہ کہیں سے کوئی بغاوت کی بو آرہی ہے یا کہیں کوئی مسئلہ کھڑا ہوا ہے۔ یہ اس لئے بتا رہا ہوں کہ بعض دنیا دار جیسا کہ میں نے کہا اپنی کم علمی یا بے وقوفی یا دنیا داری کی وجہ سے ایسی باتیں کر جاتے ہیں۔ اور بعض دفعہ جماعت میں نئے شامل ہونے والے ایسی باتوں سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ اور اس کے علاوہ یہ نومبائعین کی اپنی تربیت کے لئے بھی ضروری ہے کہ ان کو نظام جماعت کے بارے میں ، عہدیداروں کی ذمہ داریوں کے بارے میں بتایا جائے۔ کیونکہ نئے آنے والوں کے ذہنوں میں سوال اٹھتے رہتے ہیں۔ بہر حال الہی وعدوں کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں یہ نظام ، نظام خلافت کے ساتھ قائم رہنا ہے اور اب یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے مضبوط بنیادوں پر قائم ہو چکا ہے۔ کوئی مخالف یا کوئی دشمن اب اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا انشاء اللہ۔ لیکن ہمیں اپنے ذہنوں میں بعض باتیں تازہ رکھنے کے لئے وقتا فوقتا ان باتوں کی جگالی کرتے رہنا چاہیے۔ تاکہ جو پرانے احمدی ہیں ان کے ذہنوں میں بھی یہ باتیں تازہ رہیں اور اس کے ساتھ ہی نو مبائعین بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اور کبھی کسی کے ذہن میں کسی قسم کی بے چینی پیدا نہ ہو۔ انتخاب میں عہدیدار کو ووٹ دینے کا طریق اور اس کے اسلوب سب سے پہلے تو ہم قرآن کریم سے رہنمائی لیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کیا فرمایا ہے یا کیا فرماتا ہے کہ اپنے عہدیداروں کا چناؤ کس طرح کرو۔ جو آیت میں نے تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یقینا اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے حق داروں کے سپر د کیا کرو