سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 81
81 سبیل الرشاد جلد چهارم پس خدا تعالیٰ کو راضی کرنے کی راہیں تلاش کریں۔اس کی ایک راہ اس زمانہ میں نظام وصیت میں شامل ہونا ہے اس کے لئے جلد قدم بڑھائیں۔پھر اس نظام کا نظام خلافت کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود نے رسالہ ”الوصیت میں جن دو باتوں کا ذکر فرمایا ہے۔ان میں سے ایک یہ ہے کہ آپ کی وفات کے بعد قدرت ثانیہ کا ظہور ہو گا یعنی نظام خلافت کا اجراء ہو گا جس کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا جب تک اپنے اندر روحانی تبدیلیاں پیدا کرنے والے پیدا ہوتے رہیں گے تو جماعت کے تقویٰ کا معیار بھی بڑھتا رہے گا اور پھر ان قربانی والے متقیوں کے ذریعہ انشاء اللہ خلافت حقہ اسلامیہ بھی ہمیشہ قائم رہے گی کیونکہ متقیوں کی جماعت کے ساتھ ہی خلافت کا وعدہ ہے۔پس اس نعمت کی قدر کریں اور اس کے ساتھ کامیل وفا اور پورے اخلاص کے ساتھ وابستہ ہو جائیں اور یاد رکھیں کہ آپ کی ساری ترقیات خلافت سے ہی وابستہ ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق دے کہ آپ میں سے ہر ایک خلافت احمدیہ کا فرمانبردار ہے اور نظام وصیت میں شامل ہو کر آپ خود بھی اور آپ کی نسلیں بھی خدا کے فضلوں کی وارث بنیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی جنت میں داخل ہوں۔كَانَ اللهُ مَعَكُمْ والسلام۔خاکسار ( دستخط ) مرزا مسرور احمد خلیفہ اسیح الخامس (ماہنامہ انصار اللہ جون 2005 صفحہ 9 تا 11 ) عہد یداران اپنے عہدوں کا نا جائز فائدہ نہ اٹھائیں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے 24 جون 2005 ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے " کہ نرم دلی اور باہم محبت اور مؤاخات میں ایک دوسرے کے لئے ایک نمونہ بن جائیں۔تو تقویٰ کا اعلیٰ معیار تبھی قائم ہوسکتا ہے جب پیار، محبت اور عاجزی اور ایک دوسرے کی خاطر قربانی کی روح پیدا ہو۔کیونکہ جس میں اپنے بھائی کے لئے محبت نہیں اس میں تقویٰ بھی نہیں۔جس میں انکسار نہیں وہ بھی تقویٰ سے خالی ہے۔جس دل میں اپنے بیوی بچوں کے لئے نرمی نہیں وہ بھی تقویٰ سے عاری ہے۔جو بیوی یا خاوند ایک دوسرے کے حقوق ادا نہیں کرتے وہ بھی تقویٰ سے خالی ہیں۔جو عہد یدار اپنے عہدوں کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں وہ بھی تقوی سے خالی ہیں۔غرض کہ جو دل بھی اپنی انا اور تکبر یا کسی بھی قسم کی بڑائی دل میں لئے ہوئے ہے وہ تقویٰ سے عاری ہے۔جو بھی اپنے علم کے زعم میں دوسرے کو حقیر سمجھتا ہے وہ تقویٰ سے خالی ہے۔لیکن جو لوگ اپنی عبادتوں کے ساتھ ساتھ عاجزی اور