سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 386
386 سبیل الرشاد جلد چہارم مقصد ہے اور یہ سب باتیں اعمال پر منحصر ہیں۔نیک اعمال بجالا کر خدا تعالیٰ کا بھی حق ادا ہوتا ہے اور بندوں کا بھی حق ادا ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک موقع پر فرمایا تھا، پہلے بھی میں کئی دفعہ یہ چیزیں بیان کر چکا ہوں۔فرمایا کہ "یاد رکھو کہ صرف لفاظی اور لسانی کام نہیں آ سکتی جب تک کہ عمل نہ ہو۔" ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 48۔ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 249۔ایڈیشن 2003، مطبوعہ ربوہ ) پھر ایک موقع پر فرمایا: " اپنے ایمانوں کو وزن کرو۔عمل ایمان کا زیور ہے۔اگر انسان کی عملی حالت درست نہیں ہے تو ایمان بھی نہیں ہے۔" پس اگر ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مشن میں کارآمد ہونا ہے۔آپ کے مقصد کو پورا کرنے والا بنا ہے تو یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب ہم میں سے ہر ایک اپنی عملی اصلاح کی روکوں کو ڈور کرنے کی بھر پور کوشش کرے۔کیونکہ یہ عملی اصلاح ہی دوسروں کی توجہ ہماری طرف پھیرے گی اور نیچے ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مشن کی تکمیل میں ممد و معاون بن سکیں گے۔پس ہمیں سوچنا چاہئے کہ اس کے حصول کے لئے ہم نے کیا کرنا ہے؟ کیونکہ ہمارے غالب آنے کا ایک بہت بڑا ہتھیار عملی اصلاح بھی ہے۔ہماری اپنی اصلاح سے ہی ہمارے اندر وہ قوت پیدا ہوگی جس سے دوسروں کی اصلاح ہم کر سکیں گے۔ہمارے غالب آنے کا مقصد کسی کو ماتحت کرنا اور دنیاوی مقاصد حاصل کرنا تو نہیں ہے۔بلکہ دنیا کے دل اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں لاکر ڈالنا ہے۔لیکن اگر ہمارے اور دوسروں میں کوئی فرق نہیں ہے تو دنیا کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ ہماری باتیں سنے۔پس ہمیں اپنی عملی قوتوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے اور پھر مضبوطی کے ساتھ اس پر قائم رہنے کی ضرورت ہے۔خود دوسروں سے مرعوب ہونے کی بجائے دنیا کو مرعوب کرنے کی ضرورت ہے آجکل جبکہ دنیا میں لوگ دنیا داری اور مادیت سے مرعوب ہو رہے ہیں ہمیں پہلے سے بڑھ کر اپنی حالتوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔اور یہ نظریں رکھتے ہوئے اپنے آپ کو دنیا کے رعب سے نکالنے کی ضرورت ہے۔اور دنیا کو بھی ان شیطانی حالتوں سے نکالنے کی ضرورت ہے تا کہ اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے والے ہم بن سکیں اور دنیا کی اکثر آبادی بن سکے۔لیکن اس کے راستے میں بہت سی روکیں ہیں۔اس کے لئے ہم نے اپنے اندر ایسی طاقت پیدا کرنی ہے کہ ان روکوں کو دُور کر سکیں۔ہمیں دنیا کے مقابلے کے لئے بعض قواعد تجویز کرنے ہوں گے جو ہم میں سے ہر ایک اپنے اوپر لاگو کرے اور پھر اُس کی پابندی کرے۔اس کے لئے ہمیں اپنے نفسوں کی قربانی دینی ہوگی اور ایک ماحول پیدا کرنا ہوگا۔جب تک ہمیں یہ حاصل نہیں ہوتا ، ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔دنیا کی سمٹ جانے سے الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ بڑائی گھر گھر پہنچ گئی ہے جیسا کہ میں گزشتہ ایک خطبہ میں بتا چکا ہوں۔آجکل دنیا سمٹ کر قریب تر ہوگئی ہے۔گویا ایک شہر بن