سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 358 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 358

سبیل الرشاد جلد چہارم 358 عہدیدار کی ایک خوبی تواضع اور عاجزی ہے عہد یداروں میں اعلیٰ اخلاق کے اوصاف میں سے مہمان کی عزت کا وصف بھی ہونا چاہئے۔یہ بھی ایک اعلیٰ خلق ہے۔ہر شخص جو عہد یدار کو ملنے آتا ہے، اُس کے دفتر میں آتا ہے، اُس سے عزت و احترام سے ملنا چاہئے اور عزت و احترام سے بٹھانا چاہئے۔یہ بہت ضروری چیز ہے۔اگر دفتر میں آیا ہے تو کھڑے ہو کر ملنا چاہئے۔یہ اخلاق منتخب عہدیداران کے لئے بھی ہیں اور مستقل جماعت کے کارکنان کے لئے بھی ضروری ہیں۔اس سے عزت بڑھتی ہے، کم نہیں ہوتی۔پھر عہد یداروں کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت تواضع اور عاجزی بھی ہے۔اور یہ عاجزی ایک احمدی کو بھی ، عمو ماً عام آدمی کو بھی اپنی فطرت کا خاصہ بنانی چاہئے۔لیکن ایک عہد یدار کو تو خاص طور پر اپنے اندر تواضع اور عاجزی پیدا کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا (بنی اسرائیل: 38) کہ اور تم زمین میں تکبر سے مت چلو۔ایک عام انسان کے لئے بھی اللہ تعالیٰ کو تکبر پسند نہیں۔تو جو لوگ خدا تعالیٰ کی خاطر اپنی خدمات پیش کر رہے ہوں اُن کے لئے ایک لمحہ کے لئے بھی خدا تعالیٰ کو تکبر پسند نہیں ہو سکتا۔پس اس خصوصیت کو ہمارے تمام عہدیداروں کو زیادہ سے زیادہ اپنانا چاہئے اور ہر ملنے والے سے انتہائی عاجزی سے ملنا چاہئے۔عہد یدار عدل سے کام لیں پھر یہ بھی خاص طور پر وہ عہدیدار جن کے سپر دفیصلوں کا کام ہے، لوگوں کے درمیان صلح صفائی کروانے کا کام ہے، اصلاحی کمیٹیاں ہیں یا قضاء ہے یا درکھیں کہ یہ جو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ اِعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى (المائدة: 9)۔انصاف کرویہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔اس کو یا درکھنا چاہئے۔پس ہر فیصلہ انصاف پر ہونا چاہئے۔بعض دفعہ بعض فیصلے میرے سامنے آتے ہیں، ہمیں نے دیکھا ہے کہ گہرائی میں جا کر اُس پر غور نہیں ہوا ہوتا۔اس طرح جن کے متعلق فیصلہ کیا گیا ہوتا ہے اُن میں بے چینی پیدا ہو جاتی ہے۔جو فیصلہ کیا گیا ہے اگر اُس کے بارے میں شریعت کا کوئی واضح حکم ہے جس کی بنیاد پر فیصلہ کیا ہے تو پھر وہ واضح طور پر لکھا جانا چاہئے کہ شریعت کا کیونکہ یہ حکم ہے اس لئے اس کی رُو سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔خاص طور پر قاضیوں کو اس کا خیال رکھنا چاہئے۔پھر یہ بھی ضروری ہے کہ جن علاقوں میں خاص طور پر ضرورتمند اور غرباء ہیں اُن کا خیال رکھا جائے اور اپنے وسائل کے مطابق اُن کی دیکھ بھال کرنا بھی متعلقہ امراء اور عہدیداران کا کام ہے۔اس بارے میں یہ ضروری نہیں کہ درخواستیں ہی آئیں۔خود بھی جائزے لیتے رہنا چاہئے۔یہ امراء اور صدر ان کے فرائض میں داخل ہے۔