سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 277 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 277

277 سبیل الرشاد جلد چہارم لیں جو دوسرے مسلمان ہیں ان میں بعض ایسے بھی ہیں جو مسلمان کہلانے کے باوجود قبروں اور پیروں اور اس قسم کے شرکوں میں مبتلا ہوئے ہوئے ہیں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی ہیں جنہوں نے ہمیں حقیقی اسلامی تعلیم بنا کر اس قسم کے شرکوں سے محفوظ رکھا۔فرض نماز ادا کرنے کے لئے بچوں کی بچپن سے تربیت ونگرانی کی ضرورت ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جہاں اعلیٰ اخلاق اور حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف توجہ دلائی ہے وہاں ہر احمدی کو اور جماعت میں شامل ہونے والے کو یہ فرمایا کہ اگر میری بیعت میں آنا چاہتے ہو تو شرک سے بچنے کے بعد یہ عہد کرو کہ بلا ناغہ پنج وقت نماز موافق حکم خدا اور رسول کے ادا کرتے رہو گے۔پس ہمیں دیکھنا ہے کہ خدا نے نمازوں کے بارے میں کیا حکم دیا ہے۔سورۃ فاتحہ میں فرمایا ایاک نَعْبُدُ کہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی دعا سکھائی کہ تیرے حکم کے مطابق تیری عبادت کرنے کے لئے تیری مدد کی ضرورت ہے۔اس کے بغیر ہم کچھ نہیں۔اس لئے اِيَّاكَ نَسْتَعِيْن ، تجھ سے مدد بھی مانگتے ہیں۔پس جب ایک عاجزی کے ساتھ عبادت کے لئے خدا تعالیٰ سے مدد مانگنے کی طرف توجہ رہے گی تو پھر نماز کا يُقِيمُونَ الصَّلوةَ (البقرة : 4 ) کا حکم بھی سامنے آ جائے گا اور پھر نمازوں کے قیام کے نمونے قائم ہوں گے۔یعنی پانچ وقت نمازوں کے اوقات میں نمازوں کی ادائیگی کی طرف توجہ ہوگی۔اللہ تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے۔حفِظُوْا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلوةِ الْوُسْطَى ، وَقُوْمُوا لِلَّهِ قَنِتِيْن (البقرة:239) کہ نمازوں اور خصوصاً درمیانی نماز کا خیال رکھو۔پس نمازوں کا خیال رکھنا اور اس کی نگرانی کرنا ایک مومن پر فرض ہے۔اور خاص طور پر وہ نماز جو ہمارے کاموں کے دوران، ہماری مصروفیات کے دوران ، ہماری تھکاوٹ اور نیند کے اوقات میں آتی ہے۔اس کا خیال رکھنا خاص طور پر ضروری ہے۔اب اس ایک حکم میں ہی تمام نمازوں کی حفاظت کا حکم آ گیا ہے۔ہر شخص کے لئے اس کی صلوۃ الوسطی کی حفاظت اسے عمومی طور پر نمازوں کی طرف متوجہ رکھے گی۔اور پھر نمازوں کی یہ حفاظت نہ صرف ایک مومن کے لئے اس کے ایمان میں اضافے کا باعث بنے گی بلکہ نمازوں کا حق ادا کرتے ہوئے نمازوں کی ادائیگی اس کی نسل کے لئے پاک نمونہ قائم کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی اولا دکو بھی دعاؤں کا وارث بناتے ہوئے ان کے نیک مستقبل کی حفاظت کا سامان بھی کرتی چلی جائے گی۔نمازوں کا حق ادا کرنا کیا ہے؟ بہت سے لوگ جو خاص طور پر انصار اللہ کی تنظیم میں پہنچے ہوئے ہیں نمازیں تو پڑھنے والے ہیں لیکن ان کی اولادیں ان سے نالاں ہیں۔اپنی نمازوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کی نمازوں کی نگرانی بھی ماں باپ کا فرض ہے۔لیکن اس فرض کے ادا کرنے کے لئے بچوں کی بچپن سے تربیت اور نگرانی کی ضرورت ہے۔بچپن میں جب اہمیت کا نہ بتایا جائے تو بچہ جب جوانی کی عمر میں قدم رکھتا ہے خاص طور پر لڑ کے تو پھر ان پر بعض والدین ضرورت سے زیادہ بخشتی کرتے ہیں۔کئی بچے مزید بگڑ جاتے