سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 232 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 232

232 سبیل الرشاد جلد چهارم انصار اللہ کی عبادتیں کیسی ہونی چاہئیں؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : عبادت اصل میں اس کو کہتے ہیں کہ انسان ہر قسم کی قساوت بچی کو دور کر کے دل کی زمین کو ایسا صاف بنادے جیسے زمیندارزمین کو صاف کرتا ہے۔عرب کہتے ہیں مورٌ مُّعَبَّد جیسے سرمہ کو باریک کر کے آنکھوں میں ڈالنے کے قابل بنا لیتے ہیں اسی طرح جب دل کی زمین میں کوئی کنکر ، پتھر، ناہمواری نہ رہے اور ایسی صاف ہو کہ گویا روح ہی روح ہو اس کا نام عبادت ہے۔چنانچہ اگر یہ درستی اور صفائی آئینہ کی کی جاوے تو اس میں شکل نظر آجاتی ہے۔اور اگر زمین کی جاوے تو اس میں انواع و اقسام کے پھل پیدا ہو جاتے ہیں۔پس انسان جو عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے، اگر دل صاف کرے اور اس میں کسی قسم کی کبھی اور نا ہمواری، کنکر، پتھر نہ رہنے دے تو اس میں خدا نظر آئے گا۔“ فرمایا ”میں پھر کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کے درخت اس میں پیدا ہوکر نشو ونما پائیں گے اور وہ اثمار شیریں وطنیب ان میں لگیں گے جو اُكُلُهَا دَائِم (الرعد: 36) کے مصداق ہوں گے ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 347 مطبوعہ ربوہ ) یہ چیزیں ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہم سب سے چاہتے ہیں۔فرمایا کہ جیسے سرمہ کو باریک کر کے آنکھوں میں ڈالنے کے قابل بنا لیتے ہیں ( آج کل تو سرمہ اتنا استعمال نہیں ہوتا۔لیکن بعض ملکوں میں ہوتا بھی ہے ) اور سرمہ یا تو آنکھوں کی خوبصورتی کے لئے یا آنکھوں کی بیماری کو دور کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔پس جو عبادت کرنے والے ہیں ان کو بھی اپنے معیار اتنے اونچے کرنے چاہئیں کہ عبادتیں ان کی خوبصورتی بھی بن جائیں اور ان کی بصارت اور بصیرت کے لئے اللہ تعالیٰ کا فہم و ادراک حاصل کروانے کے لئے ہر دم ان کی رہنمائی کرنے والی ہوں۔ان سے وہ کام کروانے والی ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو۔عبادت وہ ہو کہ خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہو۔پس یہ ہے عبادت کا معیار جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام چاہتے ہیں۔پھر آپ نے آئینہ کی مثال دی کہ درستی اور صفائی کی جائے تو اس میں شکل نظر آتی ہے۔تو عبادتیں بھی ایسی ہوں کہ ہماری عبادتوں میں ہمیں خدا نظر آنے لگ جائے۔ہماری عبادتیں دکھاوے کی عبادتیں نہ ہوں۔ہمارا مسجد آنا یا اجلاس پہ آنا اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کیلئے ہو، نہ کہ دکھاوے کیلئے۔اور جب یہ معیار ہم حاصل کر لیں گے تو پھر ہم اپنی بقا کے سامان بھی پیدا کر رہے ہوں گے۔اپنے بیوی بچوں کی بقا کے سامان بھی پیدا کر رہے ہوں گے۔اپنی نسلوں کی حفاظت بھی کر رہے ہوں گے۔پس یہ معیار ہم نے حاصل کرنے ہیں۔پھر فرمایا کہ جو اچھی زمین تیار کی جائے اس میں انواع و اقسام کے پھل پیدا ہوتے ہیں۔تو یہ باتیں ہیں