سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 129
129 سبیل الرشاد جلد چہارم موحد ہوں، خدا کی عبادت کرنے والا ہوں ، شرک کرنے والوں میں شامل ہو جاتا ہے۔اللہ کرے کہ ہر احمدی اس شرک سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے والا ہو۔اللہ سے مدد مانگتے ہوئے اپنے نفس کی خواہشات اور اناؤں کو ختم کرنے کی کوشش کریں اور وہ نمونے قائم کریں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی جماعت میں قائم کرنا چاہتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں: " یہ سچی بات ہے کہ کوئی قوم، قوم نہیں کہلاسکتی اور ان میں ملیت اور یگانگت کی روح نہیں پھونکی جاتی جب تک کہ وہ فرمانبرداری کے اصول کو اختیار نہ کرے"۔فرمایا کہ اگر اختلاف رائے کو چھوڑ دیں اور ایک کی اطاعت کریں جس کی اطاعت کا اللہ نے حکم دیا ہے۔اب اللہ اور رسول کی اطاعت کے بعد اولوالامر کی اطاعت ہے اور اولوالامر میں نظام جماعت کا ہر شخص شامل ہے۔ایک احمدی بھی جو عہدیدار نہیں ہے اور وہ بھی جو عہدیدار ہے۔ہر عہدیدار اپنے سے بالا عہد یدار کی اطاعت کرے۔ہر احمدی ہر عہد یدار کی اطاعت کرے۔فرمایا کہ: "اگر اختلاف رائے کو چھوڑ دیں اور ایک کی اطاعت کریں جس کی اطاعت کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے پھر جس کام کو چاہتے ہیں وہ ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت پر ہوتا ہے۔اس میں یہی تو ستر ہے۔یہی ایک راز ہے، یہی اصل بات ہے اور یہی جڑ ہے کہ اللہ تعالیٰ تو حید کو پسند فرماتا ہے اور یہ وحدت قائم نہیں ہو سکتی جب تک اطاعت نہ کی جاوے"۔66 الحکم جلد 5 نمبر 5 مورخہ 10 فروری 1901ء) پس یہ اطاعت کے معیار ہیں جو ایک احمدی کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اسی سے توحید کا قیام ہونا ہے۔پس اس کے لئے ہر احمدی کو ، ہر مرد کو، ہر عہدیدار کو، ہر ممبر جماعت کو ، ہر مربی اور مبلغ کو کوشش کرنی چاہئے تا کہ اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے توحید کے قیام کا جو کام حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے سپر دفرمایا ہے اس کو ہم آگے سے آگے لے جاسکیں۔انشاء اللہ۔عہد یداران اپنے جائزے لیں پس جیسا کہ میں نے کہا سب سے پہلے اس کے لئے عہدیدار یا کوئی بھی شخص جس کے سپر د کوئی بھی خدمت کی گئی ہے اپنا جائزہ لے اور اطاعت کے نمونے قائم کرے کیونکہ جب تک کام کرنے والوں میں اطاعت کے اعلیٰ معیار پیدا کرنے کی روح پیدا نہیں ہوگی، افراد جماعت میں وہ روح پیدا نہیں ہو سکتی۔پس ہر لیول پر جو عہد یدار ہیں چاہے وہ مقامی عاملہ کے ممبر یا صدر جماعت ہیں، ریجنل امیر ہیں یا مرکزی عاملہ کے ممبر یا امیر جماعت ہیں اپنی سوچ کو اس سطح پر لائیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مقررفرمائی ہے کہ اپنی ، اپنے نفس کی خواہشات کو، اناؤں کو ذبح کرو۔اور جب یہ مقام حاصل ہوگا تو پھر دل اللہ تعالیٰ کے نور