سبیل الرّشاد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 108 of 445

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) — Page 108

108 سبیل الرشاد جلد چہارم میں بھی ان کی اعلیٰ تربیت کے ذریعہ یہ روح پھونکنے کی کوشش کرتا ہے۔اس ضمن میں مجھے یاد آیا کہ ہمارے بچپن میں تحریک جدید میں ایک مد مساجد بیرون کی بھی ہوا کرتی تھی۔ہر سال جب بچے پاس ہوتے تھے تو عموماً اس خوشی کے موقع پر بچوں کو بڑوں کی طرف سے کوئی رقم ملتی تھی۔وہ اس میں سے اس مد میں ضرور چندہ دیتے تھے یا اپنے جیب خرچ سے دیتے تھے۔یہ مداب بھی شاید ہو۔حالات کی وجہ سے پاکستان میں تو میں اس پر زور نہیں دیتا لیکن باہر پتہ نہیں ، ہے کہ نہیں اور اسے اب بیرون کہنے کی تو ضرورت بھی نہیں۔عموماً مساجد کی ایک مد ہونی چاہئے اس میں جب بچے پاس ہو جا ئیں تو اس وقت یا کسی اور خوشی کے موقع پر اللہ تعالیٰ کے گھر کی تعمیر میں چندہ دیا کریں اور اب تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا کے کونے کونے میں بے شمار احمدی بچے امتحانوں میں پاس ہوتے ہیں۔اگر ہر سال ذیلی تنظمیں اس طرف توجہ دیں ، ان کو کہیں اور جماعتی نظام بھی کہے کہ اس موقع پر وہ اس مد میں اپنے پاس ہونے کی خوشی میں چندہ دیا کریں تو جہاں وہ اللہ تعالیٰ کا گھر بنانے کی خاطر مالی قربانی کی عادت ڈال رہے ہوں گے وہاں اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کا فضل سمیٹتے ہوئے اپنا مستقبل بھی سنوار رہے ہوں گے۔والدین بھی اس بارے میں اپنے بچوں کی تربیت کریں اور انہیں ترغیب دلائیں تو اللہ تعالیٰ ان والدین کو بھی خاص طور پر اس ماحول میں بہت سی فکروں سے آزاد فرما دے گا" خطبات مسرور جلد 3 صفحه 665-666) ذیلی تنظیموں کا نظام بیاہ شادیوں پر نظر رکھے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے 25 نومبر 2005ء کو خطبہ جمعہ میں احباب جماعت کو بد رسوم سے بچنے کی تحریک فرمائی۔بیاہ شادیوں کے موقعوں پر جو ناچ، بے ہودہ گانے اور دیگر فتیح ہندوانہ رسومات بجالائی جاتی ہیں۔ان کا تفصیل سے ذکر کر کے جماعتی نظام اور ذیلی تنظیموں کے نظام کو حرکت میں آنے کی تلقین کی اور فرمایا کہ بغیر کسی رعایت کے ایسے لوگوں کی پکڑ ہونی چاہئے جو رسومات بجالاتے ہیں۔ان کی مرکز رپورٹ بھجوانا ذیلی تنظیموں کا کام ہے۔آپ نے فرمایا۔بعض دفعہ ہمارے ملکوں میں شادی کے موقعوں پر ایسے ننگے اور گندے گانے لگا دیتے ہیں کہ ان کو سن کر شرم آتی ہے۔ایسے بے ہودہ اور لغو اور گندے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں کہ پتہ نہیں لوگ سنتے کس طرح ہیں۔اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ احمدی معاشرہ بہت حد تک ان لغویات اور فضول حرکتوں سے محفوظ ہے لیکن جس تیزی سے دوسروں کی دیکھا دیکھی ہمارے پاکستانی ہندوستانی معاشرہ میں یہ چیزیں راہ پا رہی ہیں۔دوسرے مذہب والوں کی دیکھا دیکھی جنہوں نے تمام اقدار کو بھلا دیا ہے اور ان کے ہاں تو مذہب کی کوئی اہمیت نہیں رہی۔شرابیں پی کر خوشی کے موقع پر ناچ گانے ہوتے ہیں،شورشرابے ہوتے ہیں ،طوفان بدتمیزی