سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 46
46 یہ تھا حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کا طریق۔اور کجا یہ کہ ہر طرف سے اذانوں کی آوازیں آرہی ہوں اور نمازوں کی طرف بلایا جارہا ہو لیکن کارکنان سلسلہ یا ممبران مجلس عاملہ یا سلسلہ کے دیگر کارکنان خاموشی سے سن رہے ہوں جیسے کسی اور کو بلایا جارہا ہے۔بہرے کی اور کیا تعریف ہے۔صُمٌّ بُكْمٌ عُمى فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ (البقرہ : 19) کے روحانی معنی تو یہی ہیں کہ وہ سنتے ہیں اور نہیں سنتے۔دیکھتے ہیں اور نہیں دیکھتے اور جو سننے اور دیکھنے کی طاقت سے محروم ہو جائے وہ ہر لحاظ سے بالکل بے معنی جانور کی طرح زندگی بسر کرتا ہے۔نہ اس کو بولنے کی طاقت ہے۔نہ سمجھنے کی طاقت ہے۔اس لئے عبادت کا حق ادا کرنا نہایت ہی اہم ہے۔کارکنان سلسلہ کو وارننگ اب میں مضمون کی طرف واپس آتے ہوئے کارکنان سلسلہ سے یہ کہتا ہوں کہ تین مہینے کے اندر اندر یہ فیصلہ کر لیں کہ سلسلے کی ملازمت کرنی ہے یا نہیں۔جہاں تک ان کے اس فیصلے کا تعلق ہے اس میں وہ آزاد ہیں۔وہ جو فیصلہ بھی کریں ان کی مرضی ہوگی۔لیکن اگر وہ عبادت کی خاطر عبادت کریں نہ کہ ملازمت کی خاطر اور اللہ سے تعلق قائم کرنے کی خاطر نماز پڑھیں تو یہی سب اسے اچھا سودا ہے اور سلسلے کو ایسے ہی کارکنوں کی ضرورت ہے۔لیکن اگر وہ کسی وجہ سے یہ فریضہ ادا نہیں کر سکتے تو ہمیں احسان کے ساتھ ان کو الگ کرنا ہوگا۔ان کی فہرستیں بن جانی چاہئیں اور ان سے معاملہ طے ہو جانا چاہئے۔جدائی میں احسان بہر حال ضروری ہے اس لئے ان کے حقوق ان کو ادا ہونے چاہئیں۔افہام و تفہیم کیساتھ احسن رنگ میں ان کو کہا جائے کہ ہمیں مجبوری ہے کہ ہم تمہیں علیحدہ کر رہے ہیں۔لیکن اس علیحدگی میں تمہیں ثواب ہوگا اس وقت تم سلسلے پر بار بنے ہوئے ہو، پھر سلسلے کا بوجھ ہلکا کر دو گے۔پس محبت اور پیار سے سمجھا ئیں۔لیکن کوشش کریں کہ ایک بھی آدمی ضائع نہ ہو۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے سلسلے کو تو کارکن مل ہی جائیں گے، بلکہ بہتر ملیں گے لیکن وہ کارکن جنہوں نے ایک لمبا عرصہ سلسلے سے تعلق رکھا ہے ہم ان کو کیوں ضائع ہونے دیں۔ہمارا فرض ہے کہ پوری کوشش کریں اور ان کو بچائیں۔ایک ایک احمدی بنانے کیلئے ہم کتنی محنت کرتے ہیں۔تو جو پہلے سے موجود ہوں اور مرکز کے بہت قریب آئے ہوں اور جن کو سلسلہ کی خدمات کی توفیق ملی ہو ان کو ضائع نہیں ہونے دینا چاہئے۔اس لئے اس معاملے میں بے اعتنائی نہیں کرنی۔ہر افسر کا فرض ہے کہ اگر کارکن اور ذرائع سے بات نہیں سنتا تو اپنے پاس بلائیں محبت اور پیار کے ساتھ اس کو سمجھائیں اور جہاں تک ممکن ہو سلسلے کے ہر کارکن کو ضائع ہونے سے بچانے کی کوشش کریں۔