سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 467
467 کا ہے۔' جانفشانی عمر بھر کرنی پڑتی ہے۔جان جو بیچی جاتی ہے کوئی ایک لمحے کا سود انہیں ساری زندگی کا سودا ہے۔مرتے دم تک، آخری سانس تک جو جان بیچی ہے اب بیچنے والے کی نہیں رہی۔پس یہ کوئی ایسا سودا نہیں جو اچانک کسی بکری کو کسی کے پاس بیچ دیا تھوڑا سا صدمہ اگر ہوا بھی تو اس کے بعد چھٹی کر لی۔یہ تو ایک ایسی جان کا سودا ہے جولمحہ لمحہ جینے والی جان ہے اور لحہ لمحہ مرنے والی جان ہے۔ہزار موتیں اسے خدا کی خاطر قبول کرنی ہونگی اور ہزار زندگیاں ہر موت کے بدلے اسے ملیں گی۔پس یہ ہے مَن يُشْرِی نَفْسَه کہ جو اپنے نفس کو اللہ کی خاطر بیچ دیتا ہے۔فرمایا " جانفشانی کے ساتھ اپنی اس حالت کا ثبوت دیتا ہے"۔یہ نہیں کہ ایک دفعہ بیچ دیا اور بات ختم ہوگئی۔بہت سے واقفین زندگی ہم نے دیکھے ہیں جنہوں نے کسی خاص لمحہ عشق میں اپنی جان کو خدا کے سپر د کر دیا اور اس کے بعد چھٹی کر لی۔پھر ساری عمر ایسی حرکتیں کرتے رہے جو جان بیچنے والے نہیں کیا کرتے۔اللہ تعالیٰ ایسوں کو پکڑتا ہے اور لازماً ان کا بدانجام ہوتا ہے۔کبھی بھی وہ اس حالت میں نہیں مرتے کہ گویا جان بیچنے والے تھے۔تو جان کا سودا تو پہلے کا ہے اور اس سودے کے حق میں ثبوت بعد میں مہیا ہوتے ہیں۔ساری زندگی مہیا ہوتے رہتے ہیں۔" اس حالت کا ثبوت دیتا ہے کہ وہ خدا کا ہے اور اپنے تمام وجود کو ایک ایسی چیز سمجھتا ہے جو طاعت خالق اور خدمت مخلوق کے لئے بنائی گئی ہے "۔اب ایک اور پہلو بھی خدا کی خاطر جان بیچنے کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمارے سامنے کھول دیا۔فرمایا کہ وہ خدا کی خاطر جان بیچتا ہے تو خدا کی مخلوق کی خاطر بھی بیچتا ہے۔خدا کی خاطر اس کا جان بیچنا تو شاید بعض نگاہوں کو دکھائی نہ دے مگر اس کی مخلوق کی خاطر جو جان بیچتا ہے وہ تو سب کو دکھائی دیتا ہے، ساری مخلوق اس پر گواہ ہو جاتی ہے۔اور اس بات پر بھی گواہ ہو جاتی ہے کہ وہ ان سے فائدے کی خاطر کچھ نہیں کرتا کیونکہ وہ فائدہ اٹھاتا نہیں۔وہ جب شکر یہ ادا کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہمارا شکر یہ ادا نہ کرو۔ہم تو رضائے باری تعالیٰ کی خاطر یہ کام کر رہے ہیں۔تم شکر یہ ادا کرتے ہو تو ہمیں کوفت ہوتی ہے۔ہم نے تو اپنا سودا اللہ سے کیا ہے۔تو یہ دعویٰ محض دعویٰ نہیں رہتا لمحہ لمحہ اس دعوے کا ثبوت ان کی زندگی مہیا کرتی ہے۔وہ جب بنی نوع انسان کی خدمت کرتے ہیں تمام بنی نوع انسان گواہ ہو جاتے ہیں کہ یہ اپنی خاطر خدمت نہیں کر رہے تھے ہم سے کچھ لینے کی خاطر خدمت نہیں کر رہے تھے بلکہ اللہ سے کچھ لینے کی خاطر خدمت کر رہے تھے تو محض دعوئی ، دعوی نہیں رہتا بلکہ ایک قطعی ثبوت اس کی تائید میں اٹھ کھڑا ہوتا ہے جس کو رد نہیں کیا جاسکتا۔اور پھر حقیقی نیکیاں جو ہر ایک قوت سے متعلق ہیں ایسے ذوق وشوق اور حضور دل سے بجالاتا ہے