سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 466 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 466

466 کلیۂ دین کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں واقعہ ان میں سے بعض کے بھائی یا اقرباء سمجھتے ہیں کہ ہم ان کی خدمت کر رہے ہیں گویا کہ ہم نے ان کے بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں۔حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے اس فرمان کو پلے باندھ لو کہ تمہیں کیا پتہ کہ تمہارے رزق میں ان کی وجہ سے برکت ہے۔اگر یہ دین کی خدمت چھوڑ دیں تو پھر دیکھنا کہ تمہارا کیا حال باقی رہ جاتا ہے۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا یہ فرمان جیسا اس وقت سچا تھا ویسا ہی آج بھی سچا ہے۔بعینہ اپنی پوری شان کے ساتھ آج کے زمانے کے خدمت کرنے والوں پر بھی اور ان کے رشتہ داروں پر بھی اطلاق پاتا ہے۔پس يَشرِی نَفْسَهُ میں یہ سارے لوگ داخل ہیں جنہوں نے اپنی جانیں بیچ ڈالیں۔اللہ تعالیٰ ان کو یقین دلا دے اور ان کے اعزاء اور اقرباء کے دماغ میں وہ ہم تک بھی نہ گزرے کہ ان کی وجہ سے ان کے خاندانوں کو کوئی نقصان پہنچ رہا ہے۔حضرت مسیح موعود کی تشریحات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسی آیت کی مختلف تشریحات پیش فرماتے ہیں، مختلف تحریروں میں آپ نے مختلف پہلوؤں پر زور دیا ہے۔مثلاً فرمایا ” یعنی انسانوں میں سے وہ اعلی درجہ کے انسان ہیں جو خدا کی رضا میں کھوئے جاتے ہیں۔اپنی جان بیچ دی تو باقی کیا رہا ان کے پاس۔وہ دنیا سے غائب ہو جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی ذات اور اس کی یاد میں کھوئے جاتے ہیں وہ اپنی جان بیچتے ہیں اور خدا کی مرضی کو مول لیتے ہیں۔یہ مول لیتے ہیں بہت پیارا اظہار ہے۔یعنی فرمایا کہ جیسے سودا کرنے والے کو جو وہ خرچ کرتا ہے اس کے نتیجے میں وہ سودا دیا جاتا ہے جس کی خاطر وہ خرچ کرتا ہے۔تو مول لیتے ہیں سے مراد یہ ہے کہ اللہ کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اپنی رضا سے ان کو تمتع فرمائے کیونکہ گویا انہوں نے اس کی رضا خرید لی۔اب اللہ سے تو کوئی ویسے سودا نہیں کر سکتا، اس کی رضا خریدی نہیں جاسکتی مگر جب وہ خود کہے کہ کون ہے جو میری رضا خرید نے والا ہے اور کچھ لوگ اس کے جواب میں آگے بڑھیں اور کہیں ہم ہیں تیری رضا خریدنا چاہتے ہیں تو پھر کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اس ادعا سے پیچھے ہٹ جائے وہ لازماً اپنی رضا ان کو عطا فرماتا ہے۔وہ اپنی جان بیچتے ہیں اور خدا کی مرضی کو مول لیتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن پر خدا کی رحمت ہے ایسا ہی وہ شخص جو روحانی حالت کے مرتبے تک پہنچ گیا ہے خدا کی راہ میں فدا ہو جاتا ہے۔اب مول لینا جو ہے یہ فدا ہونے سے ورے ورے نہیں ہو سکتا۔فرمایا " جو شخص روحانی حالت کے مرتبے تک پہنچتا ہے خدا کی راہ میں فدا ہو جاتا ہے۔خدا تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ تمام دکھوں سے وہ شخص نجات پاتا ہے جو میری راہ میں اور میری رضا کی راہ میں جان کو بیچ دیتا ہے اور جانفشانی کے ساتھ اپنی اس حالت کا ثبوت دیتا ہے کہ وہ خدا