سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 438 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 438

438 میں ان کی ذات کا کوئی عمل دخل نہیں۔یہ نصیحت جہاں میں کر رہا ہوں وہاں یہ بھی سمجھانا چاہتا ہوں کہ باوجود اس کے کہ سب سے زیادہ اہم ترین اطاعت کا حکم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے لئے ہے اور آپ کی ذات کے حوالے سے پھر آگے یہ حکم پھیلا ہے۔مگر آپ کے متعلق بھی قرآن کریم نے متنبہ فرمایا کہ اگر تجھے وہ رحمت کا دل نہ دیتے جو ہر وقت ان پر جھکا رہتا ہے، ہر وقت ان کے خیال میں مگن رہتا ہے ، ان کی تکلیف تجھ پر مصیبت بن جاتی ہے ” عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُمْ “ جو دکھ اٹھاتے ہیں تجھے بھی مصیبت پڑ جاتی ہے۔اگر یہ نہ ہوتا اس قسم کی کیفیات تو تیرکی اعلیٰ عظمت اور تیرے متعلق خدا تعالیٰ کے اعلیٰ فرمان بھی ان کو اکٹھے نہ رکھ سکتے۔اس لئے کہ تو تو صحت مند ہے یہ سارے صحت مند نہیں۔اور جو اعلیٰ صحت اطاعت کے لئے درکار ہے جو ہر ٹھوکر سے بالا ہو جاتی ہے، ہر ابتلاء سے ثابت قدم گزرتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔اور وہ صحابہ اکرام جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں قریب تر رہتے تھے ان کا ایک الگ مرتبہ تھا۔ان کے متعلق اس آیت میں ہرگز یہ نہیں فرمایا گیا کہ لَوْ كُنتُ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ (آل عمران: 160 ) انہوں نے تو رہنا ہی تھا ساتھ۔ان پر تو یہ مضمون صادق آتا تھا کہ ”ہمیں تو راہرووں کی ٹھوکریں کھانا مگر جانا، یعنی محبوب کی گلیوں میں۔اس لئے قرآن کریم کی ہر آیت کو اس کے موقع محل کے مطابق چسپاں کرنا چاہئے۔لیکن ایک بڑی جماعت ایسی تھی جو تربیت میں وہ مرتبہ نہیں رکھتی تھی۔وہ ہر لمحہ دلداری کے محتاج تھے اور دلداری کے رستوں سے وہ رفتہ رفتہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آتے رہے، قریب تر ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ پھر اس مرتبے اور مقام پر پہنچے کہ جس کے متعلق قرآن کریم نے ان کے ثبات قدم کی گواہیاں دیں۔پس وہ جو مضمون ہے وہ عمومی تربیت کا مضمون ہے کہ جو امیر مقرر ہو اور خاص طور پر جو خدا تعالیٰ کی طرف سے امیر مقرر ہو اس کے اوپر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔انسانی فطرت کو نظر انداز کر کے محض اس وجہ سے کہ اللہ نے اسے مامور بنا دیا ہے وہ یہ سمجھے کہ اب ہر شخص کا فرض ہے میری اطاعت کرے اور اطاعت میں حد کمال کو پہنچ جائے مگر میں بس صرف ما مور بن کر بیٹھا رہوں گا میرا کام اطاعت قبول کرنا ہے اس سے بڑھ کر نہیں۔یہ درست نہیں ہے۔یہ فطرت انسانی کے خلاف بات ہے۔اور قرآن فطرت کے مطابق ہے۔ایک زعیم انصار اللہ بھی محدود پیمانے پر مامور ہے جس کی اطاعت کرنالازمی ہے اور قرآن یہ بھی بتانا چاہتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خدام میں جو اطاعت کے بے مثال نمونے تم دیکھتے ہو اس میں تم ان کے لئے جتنی بھی دعائیں کرو بے شک کر دمگر یا درکھو کہ اس کا اصل کریڈیٹ ، اس کا اصل سہرا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر ہے۔کیونکہ آپ نے اپنے پیار، محبت ،مغفرت عفو اوران کی خاطر تکلیفیں اٹھا کر خود ایک مقام پیدا کر لیا۔اور ایک ایسا مقام پیدا کیا ہے کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ صفات نہیں ہوتیں تو ان میں جو نمونے تم دیکھتے ہو وہ نظر نہ آتے۔پس یہ ان کی ذاتی خوبی نہیں۔یہ