سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 392
392 کہ ان سے کہہ دے اللہ کو تمہاری کیا پر واہ ہے اگر تمہاری دعا نہ ہو۔پس دعا کے مضمون کے یہ حدیث مخالف نہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ ذکر الہی محبت کے نتیجے میں ان کی زندگی پر چھا جاتا ہے اور ایسی کیفیت میں اگر ان کو دعا کا وقت میسر نہ بھی آئے اور دعا کی طرف ان کی واضح توجہ نہ بھی پھرے تب بھی اللہ کے ہاں وہ محفوظ لوگ ہیں۔اللہ خود ان کی نگرانی کرتا ہے خودان کی حاجت روائی فرماتا ہے۔اسی حدیث کے اسی مضمون کے متعلق ایک اور حدیث بخاری کتاب الرقاق باب التواضع میں ہے۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس نے میرے دوست سے دشمنی کی میں اس سے اعلان جنگ کرتا ہوں یہاں دعا کے بغیر ہی خدا کے تعلق کی ایک دائمی کیفیت بیان ہو رہی ہے جو ذکر الہی میں مصروف رہتا ہے وہ دوست بن جاتا ہے اور جب دوست ہو جائے تو ضروری تو نہیں ہوا کرتا کہ دوست مانگے تو دو اس کا تعلق رحمانیت سے ہو جاتا ہے۔چنانچہ عبادالرحمن کا جو مضمون قرآن کریم میں بیان ہوا ہے یہ وہی ہے جو احادیث میں بیان ہو رہا ہے کہ یہ لوگ رحمن خدا کے بندے بن جائیں وہ مانگیں تو ضرور ملتا ہے اور بھی ملتا ہے۔لیکن نہ مانگیں تب بھی ملتا ہے یہ مراد ہے۔یہ مراد نہیں کہ رحمن کے بندے ہو کر رحیم سے اپنا تعلق کاٹ لیتے ہیں بلکہ رحمانیت کی صفت میں ڈوب جاتے ہیں اس لئے اگر نہ بھی مانگیں تب بھی اللہ تعالیٰ ان کو دے دیتا ہے اور بعض دفعہ تو خود پتا ہی نہیں ہوتا کہ ہم نے مانگنا کیا ہے۔انسان کو چاروں طرف سے مختلف خطرات درپیش ہوتے ہیں۔ایسی حالت میں اس کو خطرات در پیش ہیں اس کو پتا ہی نہیں کہ کہاں سے، کس خطرے نے حملہ کرنا ہے، کہاں دشمن چھپا ہوا ہے، کل کی اسے خبر نہیں۔وہ مانگے گا کیسے؟ تو ذکر الہی کے تعلق میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک راز ، ایک بہت ہی قیمتی خزانہ عطا کر دیا کہ ضروری نہیں کہ تم مانگو تو تمہیں دیا جائے۔تم اللہ کے ذکر میں ڈوبے رہو، پھر تمہیں یہ بھی نہیں پتا ہوگا کہ کیا مانگنا ہے اور کب مانگنا ہے تب بھی اللہ تعالیٰ تمہیں دے رہا ہوگا۔پس دعا سے ذکر کا مضمون افضل ہے یہ بات بہر حال قطعی طور پر ثابت ہوتی ہے۔دوسرے جہاں جہاں بھی قرآن کریم میں دعا کا ذکر ملتا ہے وہاں ہر جگہ مانگنے کے معنوں میں نہیں۔وہاں پیار سے اللہ کے ذکر کے معنوں میں بھی دعا کا لفظ استعمال ہوا ہے جیسا کہ میں نے آپ کے سامنے آیت پڑھی تھی۔تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا یہاں جو مضمون ہے وہ عاشق کا مضمون بیان ہوا ہے۔یہ نہیں کہ آنکھ کھلتے ہی مانگنے لگ جاتے ہیں کہ اے اللہ میاں یہ بھی دے، وہ بھی دے۔مراد یہ ہے کہ اللہ کی محبت میں آنکھیں کھلتی ہیں۔کروٹیں بدلتے ہوئے بستروں سے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ان کے پہلو آرام گاہوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔وہ اللہ کو پکارتے ہوئے اٹھتے ہیں۔دعا کا معنی صرف مانگنا نہیں پکارنا بھی ہے اور یہ اعلیٰ معنی ہے پس ذکر اور دعا یہاں ایک ہی