سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 23
23 قرآن والا مسیح ہے جو نہایت پاکیزہ رسول، نہایت نیک، ہر لحاظ سے اچھا اور خدا کا برگزیدہ اور پیارا تھا لیکن وہ می جو تم پیش کر رہے ہو ، وہ یسوع جو تم پیش کر رہے ہو جس کو بائبل خدا کا بیٹا کہتی ہے جس کا ہمارے نزدیک کوئی وجود نہیں مگر تمہارے نزدیک وہ حقیقت ہے تمہاری اپنی بائیبل کی زبان میں وہ ایسا تھا اور وہ ایسا تھا کیسی شان کے ساتھ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اپنی غیرت اور محبت کا اظہار بھی فرما دیا اور ساتھ ہی قرآن کا بھی دفاع کیا۔اور مسیح کا بھی دفاع کیا۔یہ ہے جہاد کا وہ اسلوب جو حضرت مسیح موعود نے ہمیں سکھایا ہے اور ہر میدان میں ہمیں اسی اسلوب کے ساتھ نکلنا پڑے گا۔یہ وہ بنیادی ہتھیار ہیں جن کے ساتھ لیس ہو کر جب مسلمان نکلتا ہے تو اس کے لئے شکست کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا پھر آپ نے جس طرح دلجوئیاں فرمائیں وہ بھی ہمارا فرض ہے حملے کا جواب حملے سے دینا اور محض دفاع تک محدود نہ رہنا فن حرب میں انتہائی ضروری ہے۔مجھے یاد ہے ہمیں بچپن میں ایک دفعہ قادیان میں گنگا دیکھنے کا موقع ملا ( گت کا تو خیر ہم کھیلا بھی کرتے تھے ) گتنے کا مقابلہ دیکھنے کا حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کو بہت شوق تھا آپ نے صحت کو برقرار رکھنے کی طرف بہت توجہ دلائی۔مختلف ذرائع سے بتاتے رہتے تھے کہ گھوڑ سواری سیکھوگت کا سیکھو اور مردانہ کھیلوں میں حصہ لو۔آپ نے قادیان میں گنے کو بہت رواج دیا۔ایک دفعہ حضور کو خیال آیا کہ یہ جو گتکے باز ہیں یہ صرف قانونی ابیچ بیچ ہی ہیں یا واقعی ان کو دوسروں پر فضیلت بھی حاصل ہو جاتی ہے۔چنانچہ آپ نے ایک مضبوط زمیندار جاٹ کو بلایا اور گٹکے کے استاد کو بھی اس کو آپ نے کہا کہ تم تو گنکا جانتے ہو، بڑے ماہر ہو تم نے صرف دفاع کرنا ہے اور اس پر جوابی حملہ نہیں کرنا اس نے صرف حملہ کرنا ہے۔آپ دونوں کا مقابلہ کرا کے دیکھتے ہیں کہ کون جیتتا ہے اس جاٹ نے اندھوں کی طرح لاٹھیاں چلانی شروع کیں۔اس نے دورو کیں ، چار روکیں ، پانچ روکیں پھر کوئی لاٹھی اس کی ٹانگ پڑی کوئی پیٹ پر پڑی کوئی سر پر آئی لوگ ہنس پڑے کہ دیکھو جی ! گٹکے کا استاد بنا پھرتا ہے اور ایک جاٹ سے ہار گیا ہے اس نے کہا حضور بات یہ ہے کہ گٹکے میں تو حملہ بھی ہوتا ہے اور دفاع بھی ہوتا ہے اگر کسی کو صرف دفاع پر مجبور کیا جائے تو ناممکن ہے کہ وہ صحیح دفاع کر سکے۔جب تک اگلے کو یہ خوف نہ ہو کہ مجھ پر بھی پڑے گی اس وقت تک اس کو مارنے کا سلیقہ بھی نہیں ہوتا اور دفاع کے لئے تو ایک آدمی کے ہاتھ باندھے جاتے ہیں تو تھوڑا سا گت کا اس طرح بھی کروادیں کہ اس کو کہیں کہ تم پر بھی پڑے گی پھر میں دیکھوں گا کہ وہ مارنے کیلئے بچتا بھی ہے کہ نہیں۔خیر حضور ہنس پڑے۔آپ نے فرمایا میں جانتا ہوں تمہاری بات ٹھیک ہے۔پس مسلمانوں کے ساتھ پہلے یکطرفہ مقابلہ ہوتا رہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آئے اور آپ نے اسلوب بدلا مسلمان بے چارے مجبور تھے۔حضرت عیسی علیہ السلام کو نبی مانتے تھے اور وہ یکطرفہ