سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 290
290 اس آواز کا جھوٹ اور فریب ایک اور آواز سے ظاہر ہوتا ہے جو ساتھ ہی کانوں میں پڑتی ہے اور وہ قانون کی آواز ہے۔وہ آواز یہ کہتی ہے کہ دیکھو جو بلوغت سے پہلے انسانوں کے بنائے ہوئے قانون تو ڑا کرتے تھے ان کی سزا کم ہوا کرتی تھی ان میں تم پوری طرح ذمہ دار نہیں تھے۔لیکن اب تم ایسی عمر کو پہنچ رہے ہو کہ خبر دار جوتم نے کبھی قانون سے باہر قدم رکھا۔ہمارے بنائے ہوئے قوانین یعنی انسانی قوانین کو اتنی طاقت ہے اتنی عظمت ہے کہ اب بلوغت کی عمر کے بعد ان کو توڑنے کا بھی کبھی تصور نہ کرنا ورنہ پہلے اگر تمہیں قتل کے الزام میں وقتی معمولی سزائیں دی جاتی تھیں (اگر قتل ثابت ہو جائے تو ) کیونکہ بالغ عمر کونہیں پہنچے تھے۔لیکن اب اگر قتل کرو گے تو عمر قید بھی ہو سکتی ہے اور بعض ریاستوں میں پھانسی بھی لگ سکتی ہے تو یہ ایک اور آواز اٹھ رہی ہے عمر وہی ہے وہی عمر کی ایک لکیر ہے جس سے قدم دوسری طرف جانے والا ہے خدا کے قانون کے مطابق ان قوموں کا یہ پیغام ہے کہ اے وہ بچے جو اٹھارہ سال کی عمر کو پہنچ رہے ہو مبارک ہو تم خدا کی خدائی سے آزاد کئے جاتے ہو۔اخلاقی قیود کے متعلق ان کو پیغام ہے کہ اے بچو! جو اٹھارہ سال کی عمر کو پہنچ رہے ہو۔تمہیں مبارک ہو کہ ہر قسم کی اخلاقی قدروں سے ہم تمہیں آزاد کرتے ہیں۔معاشرتی اور تمدنی طور پر ان کو یہ پیغام ملتا ہے کہ اے بچو! جو اٹھارہ سال کی عمر کو پہنچ رہے ہو تم ماں باپ رشتے داروں ، پرانی خاندانی اور روایتی قدروں سے آزاد کئے جاتے ہو۔تو اب ان باتوں کی پیروی کی کوئی ضرورت نہیں ہے جو چاہو کرتے پھرو اور قانون کی طرف سے یہ پیغام ہے کہ ہاں انسان کے بنائے ہوئے ہمارے ملک کے جو قوانین ہیں خبر دار جو ان کو ٹیڑھی نظر سے دیکھا۔عمر ایک ہی ہے پیغام دو ہیں اسی کا نام دجل ہے اسی کا نام دھوکہ بازی ہے اگر بلوغت کی عمر کا تقاضا ذمہ داری تک کی عمر کو پہنچنا ہے۔تو دونوں طرف برابر یہی پیغام ملنا چاہئے تھا دونوں آواز میں یکساں اور ہم آہنگ ہونی چاہئے تھیں اور ملک کے بڑے بڑے جو با اثر لوگ ہیں یا سکولوں کالجوں میں جو اساتذہ وغیرہ ہیں اور جو بچوں پر اثر رکھتے ہیں ان سب کو یہی کہنا چاہئے کہ دیکھو تم انسانی قانون کی زد میں آرہے ہو ا خلاقی قانون کی زد میں بھی پہلے سے بڑھ کر ہو۔مذہبی قانون کی زد میں بھی پہلے سے بھی بڑھ کر ہوا اگر تم سچے ہو تو جس چیز کو تم سچائی سمجھتے ہو اس پر تمہیں پہلے سے بہت زیادہ ذمہ داری سے عمل کرنا ہو گا اس سے غرض نہیں ہے کہ تم عیسائی ہو یا مسلمان ہو یا ہندو یا سکھ ہولیکن تم اس سچائی کو جس کو تم نے قبول کر رکھا ہے سچائی سمجھ کر قبول کر رہے ہو۔پس اعلیٰ انسانی قدروں کا تقاضا ہے، بالغ نظری کا تقاضا ہے کہ تم پہلے سے بڑھ کر ان چیزوں کی قدر کرو لیکن آپ دیکھتے ہیں کہ اس کے بالکل بر عکس دو الگ الگ پیغام دنیا کو دیے جارہے ہیں۔اجتماع کے موقع پر آپ کو یہ سوچنا چاہئے کہ آپ کس ملک میں ہیں اور اس ملک کے خطرات کیا کیا ہیں اور ان کی نشاندہی کرنی چاہئے اور یہ جو پیغام امریکہ کیلئے ہے یہی پیغام ساری مغربی دنیا کے لئے ہے بسا اوقات میں مشرقی ممالک کی خرابیوں کا ذکر کر کے ان کی اصلاح کی طرف توجہ دلاتا ہوں اب مغربی دنیا میں ہونے والے اجتماع کے حوالے