سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 284 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 284

284 سعید خانصاحب کے والد تھے، عبد القیوم خان صاحب آف شیخ محمدی ، قاضی محمد جان صاحب آف ہوتی ، آدم خان صاحب جو سابق امیر ضلع مردان تھے، اب بھی خدا کے فضل سے زندہ اور بہت ہی مخلص فدائی دین کا علم رکھنے والے بزرگ ہیں۔صوفی غلام محمد صاحب آف ڈیرہ اسماعیل خان صاحب، ان کی اولاد یہاں انگلستان میں موجود ہے۔صاحبزادہ عبداللطیف صاحب آف ٹوپی جن کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ان کے علاوہ اور بھی بہت سے ہیں جن کی اولاد کا تعلق یا خلافت احمدیہ سے کٹ کر لاہوری جماعت سے ہو گیا یا سرکتے سرکتے وہ جماعت احمدیہ کے دائرہ سے باہر نکل گئے۔ان بزرگوں کی ایک لمبی فہرست ہے اور اس وقت وقت نہیں کہ میں وہ ساری فہرست پیش کر سکوں۔بہت سے ایسے بھی ہیں جن کا ہماری تاریخ میں ذکر نہیں ملتا لیکن صوبہ سرحد کے سفر کے دوران جب میری بڑے بڑے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں تو انہوں نے خود یہ تسلیم کیا اور بتایا کہ ان کے والد مخلص احمدی تھے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تعلق ، سیاسی وجوہ کی بناپر مخفی رکھتے تھے اور جہاں تک ان کے عقائد کا تعلق ہے وہ نہ صرف احمدی بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے والہانہ عقیدت رکھتے تھے۔بعض ایسے بزرگ ہیں جو زندہ ہیں اور بڑے بڑے سیاسی مناصب پر پہنچے ہوئے ہیں ان کا نام لینا مناسب نہیں کیونکہ ان کے والد اپنی نیکی کے باوجود شرماتے تھے تو وہ تو پھر اور بھی زیادہ خفت محسوس کریں گے اور گھبرائیں گے کہ ہمیں کیوں احمدیت کی طرف منسوب کر دیا گیا مگر پرائیویٹ مجالس میں ذکر کرنا چاہئے وہی رستہ ہے جو قرآن کریم نے بیان کیا ہے۔ساری دنیا میں ذِكُرُكُمْ آبَاءَ كُمُ کا سلسلہ جاری ہو جائے آباء کے ذکر سے خدا کے ذکر کی طرف ان کو منتقل کر دیں۔آباء کا ذکر کرتے ہوئے ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھیں اور ذکر اللہ میں جا کر اپنی آخری منزل تک پہنچیں اور وہاں اپنے سفر کا اختتام کریں۔یہ وہ طریق ہے جس سے ہم بہت سی کھوئی ہوئی اعلیٰ اقدار کو واپس لے سکتے ہیں، دوبارہ اختیار کر سکتے ہیں اور قوموں کی زندگی کا راز اس میں ہے اور قرآن کریم کی اس آیت نے بہت گہرا نفسیاتی نکتہ بیان فرمایا ہے۔جس کا قوموں کے عروج اور زوال سے بڑا گہرا تعلق ہے۔پس یوگنڈا ہو یا صوبہ سرحد کی جماعتیں ہوں یا پنجاب کی یا بنگلہ دیش کی جماعتیں ہوں یا ہندوستان وغیرہ دنیا میں اور جہاں جہاں بھی احمد یہ جماعتیں ہیں جن میں پہلی نسل کا تعلق صحابہ یا تابعین سے تھا وہ خصوصیت سے میرے پیش نظر ہیں ان کے علاوہ بھی جہاں تک میں نے نظر ڈالی ہے مثلاً افریقہ کے بعض ممالک میں ایسے بزرگ بھی ہیں جنہوں نے نہ صحابی دیکھا نہ تابعی سے تربیت حاصل کی مگر اخلاص میں غیر معمولی ترقی کر گئے اور اپنے علاقے میں اخلاص اور قربانی کی عظیم الشان مثالیں قائم کر گئے ہیں جو زندہ جاوید ہوں گی اور ایسے علاقوں میں ان سے بات چلانی چاہئے۔