سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 274 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 274

274 جلسہ سالانہ منعقد ہو رہا ہے ، صوبہ سرحد کی جماعتوں کا تو چوتھا جلسہ سالانہ ہے اور یوگنڈا میں بھی جلسہ سالانہ ہے۔جماعت جرمنی میں مجلس شوری ہورہی ہے اور مجلس اطفال الاحمدیہ ضلع اٹک کا سالانہ تربیتی اجتماع ہورہا ہے۔کل سے جماعت سپین کی مجلس شوری پیدر و آباد میں شروع ہوگی۔تو دوحصے ہیں ایک اجتماعات کا اور ایک شوری کا۔سب سے پہلے میں اجتماعات کو پیش نظر رکھتے ہوئے بعض نصیحتیں اُن احباب اور خواتین اور بچوں کو کرنی چاہتا ہوں جو ان اجتماعات پر جمع ہوئے ہیں اور اسی حوالے سے دنیا بھر کی جماعتوں کو بھی وہی نصیحتیں ہیں اور اس کے بعد انشاء اللہ مجلس شوری سے متعلق چند اہم بنیادی امور پیش کروں گا۔جن آیات کی (مریم 60-66) میں نے تلاوت کی ہے ان کا تعلق تربیت سے ہے اور تربیت کے ایک ایسے حصہ سے ہے جس کا قوموں کی زندگی اور بقا سے تعلق ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفَ أَضَاعُوا الصَّلوةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوتِ وہ نیک لوگ تھے جنہوں نے اپنے پیچھے بعض ایسی اولادیں چھوڑیں۔جنہوں نے نماز کو ضائع کر دیا۔وَاتَّبَعُوا الشَّهَوتِ اور شہوات کی اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کرنے لگے۔فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا پس وہ عنقریب ضرور اس کا بد نتیجہ یا کی صورت میں دیکھیں گے۔ہاں وہ لوگ مستثنیٰ ہیں جو نیک لوگوں کی اولاد ہوئے اور پھر خود بھی تو به کی یعنی از سرنو ایمان لائے اور اپنے ایمان کو تازہ کیا۔وَعَمِلَ صَالِحًا اور نیک اعمال کرتے ہوئے زندگی گزاری۔فَأُولَبِكَ يَدْخُلُونَ الجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُونَ شَيْئًا یہ لوگ جنت میں داخل کئے جائیں گے اور ان کے اعمال میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی یعنی اعمال کی جزا میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔جَنَّتِ عَدْنٍ الَّتِي وَعَدَ الرَّحْمَنُ عِبَادَهُ بِالْغَيْبِ۔یہ پیشگی کی جنتیں ہیں ان جنتوں کا وعدہ رحمن خدا نے غیب سے اپنے بندوں سے فرمایا ہے۔اِنَّهُ كَانَ وَعْدُهُ مَاتِيًّا۔اور یقیناً اللہ کا وعدہ ضرور لایا جاتا ہے۔مراد یہ ہے کہ جب خدا ایک وعدہ کر لیتا ہے تو جس سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ اس معاملہ میں بے اختیار اور بے بس ہو جاتا ہے اور خدا نے ضرور وعدہ پورا کر کے اس کے سامنے حاضر کر دینا ہے۔پس یہ جنتیں ایسی ہیں گویا ز بر دستی ان میں داخل کیا جائے گا۔یعنی خواہش تو ہر انسان کی ہوگی لیکن خواہش کرنے والے سے زیادہ اللہ کو ان کو جنتوں میں داخل کرنے کا شوق ہوگا۔یہ مضمون ہے جو ماتا کے ذریعہ بیان فرما دیا گیا یعنی میزبان کو مہمان سے بڑھ کر مہمان کی عزت افزائی کا شوق ہے اور تمنا ہے اور وہ ضرور اس تمنا کو پورا کر کے رہے گا۔اس سلسلہ میں لفظ یا خاص توجہ کا محتاج ہے اس لئے میں نے وہاں اس کا ترجمہ نہیں کیا بلکہ یہ ذکر کیا کہ ایسے