سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 272 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 272

272 پس نصیحت غیروں پر جن کی آنکھیں بند ہوں ، جن کے دلوں پر ، کانوں وغیرہ پر مہریں لگ چکی ہوں۔وہ بعض دفعہ نصیحت نہیں سنتے مگر اس لئے کہ نصیحت کے دروازے بند ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم کی نصیحت کی کمزوری کی طرف اشارہ نہیں ہے۔بلکہ خَتَمَ اللهُ عَلَى قُلُوبِهِمُ (البقرہ:8) کے مضمون نے ہمیں یہ سمجھا دیا کہ بعض کان نصیحت سننے کے لئے بند ہیں، بعض دل انہیں قبول کرنے کے لئے اندر سے اس طرح بند ہو گئے ہیں کہ آمْ عَلَى قُلُوبِ اقْفَالُهَا ( محمد :25) گویا اُن کے دلوں کے اندر کچھ تالے تھے، جو اُنہوں نے اوپر ڈال رکھے ہیں۔تو ایسی کیفیت والے لوگ مستثنی ہوں گے لیکن مراد یہ نہیں ہے کہ نصیحت کا اثر نہیں۔نصیحت اُن رستوں سے داخل نہیں ہونے دی جاتی جو رستے نصیحت کے لئے مقرر فرمائے گئے ہیں۔پس نصیحت کا کوئی قصور نہیں مگر بنیادی بات جو میں سمجھانی چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ایسے لوگوں پر بھی نظر ڈالتے ہوئے بھی حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طیش میں نہیں آتے تھے۔نصیحت کی ہے، مقابل پر صرف یہ نہیں کہ اُس کو رد کیا گیا ہے بلکہ سخت سزا دی گئی ہے، سخت اذیتیں پہنچائی گئی ہیں۔زبان سے بھی ، ہاتھ سے بھی اور دیگر ذرائع سے بھی شدید اذیت میں مبتلا کیا گیا ہے۔اس جرم میں کہ ہمیں کیوں نصیحت کی اور ہر ایسے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا رد عمل رحمت کا رد عمل تھا اور طائف کا واقعہ دیکھ لیجئے کہ طائف کے ایک سنگلاخ پہاڑی علاقے میں ، جہاں تک میں سمجھتا ہوں جو چٹانوں کا پہاڑی علاقہ تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نصیحت کے لئے گئے اور جواب میں اُس علاقے کے سردار نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے گلیوں کے چھو کرے لونڈے لگا دیئے۔اُن کی جھولیوں میں پتھر تھے، زبانوں میں گندی گالیاں تھیں، حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حالت میں اپنے شہر سے ایسے نکالا ہے کہ سر سے پاؤں تک لہولہان ہو چکے تھے اور دل زخموں سے بھرا ہوا تھا۔بیان کرنے والے بیان کرتے ہیں کہ چلنا اس لئے مشکل تھا کہ جوتی میں اپنے ہی خون کا کیچڑ سا بن گیا تھا۔چلتے ہوئے پاؤں پھسلتا تھا۔ایسے موقع پر اللہ تعالیٰ نے آپ کے پاس فرشتے بھیجے اور فرمایا کہ اگر تو چاہتا ہے تو خدا غضبناک ہے ان کی حالت پر اور اگر تو چاہے تو وہ فرشتے جو اس پہاڑ کے فرشتے ہیں ان دو پہاڑوں کے درمیان وادی سی ایک جگہ میں واقعہ تھا شہر۔ان پہاڑوں کو اکٹھا کر دیں گے اور ہمیشہ کے لئے یہ بستی نابود ہو جائے گی یعنی مراد ہے کہ ایسا خوفناک زلزلہ آ سکتا ہے خدا کے ایسے فرشتے جو زلزلے کی طاقتوں پر مامور ہیں اُن کو اللہ اجازت دے تو ہمیشہ کے لئے یہ بستی نابود ہو جائے گی۔اگر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں ذرا بھی غصے کا رد عمل ہوتا تو اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ اے اللہ ! ان کو ہلاک کر دے، زندہ رہنے کے لائق نہیں۔بعض روایات میں ایک لمبی دعا ملتی ہے۔ایک یہ بھی دعا ملتی ہے کہ اللَّهُمَّ اهْدِ قَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُون بعض روایات میں اس دعا کا تعلق بدر یا احد کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے۔مجھے اس وقت بھی یاد نہیں لیکن ایک اور جنگ کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے۔لیکن حضرت مصلح موعودؓ