سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 242 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 242

242 تمام ذیلی تنظیمیں ایسی منصوبہ بندی کریں کہ ہر احمدی کے دل میں خدمت کا جذبہ پیدا ہو جائے اس ضمن میں میں بہت سے خطبات پہلے بھی دے چکا ہوں اور ان خطبات میں میں نے جماعت کی تنظیموں کو نصیحت کی تھی کہ آپ اس کام کو اس طرح مرتب کریں، اس طرح منصوبہ بندی کے ساتھ بجالائیں کہ تمام احمدی جن کے دل میں خدمت کا کچھ بھی جذبہ ہے وہ اس نظام سے وابستہ ہو جائیں اور اس سے استفادہ کریں اور پھر اس کی نگرانی رکھیں اور حتی المقدور کوشش کے ساتھ اس کام کو آگے بڑھانا شروع کریں۔میں نہیں جانتا کہ منتظمین نے یا اصلاح وارشاد کے سیکرٹریوں یا دعوت الی اللہ کے سیکرٹریوں نے کس حد تک اس طرف توجہ کی یا امراء نے اپنے فرائض کو اچھی طرح سمجھ کر انہیں بجالانے کی کوشش کی۔تمام دنیا کی جماعتوں میں مختلف رد عمل ہوں گے۔کہیں کوئی امیر زیادہ مستعد ہیں کہیں کوئی امیر ذاتی طور پر دعوت الی اللہ سے قلبی تعلق رکھتے ہیں ایسی جگہوں میں یقیناً خدا کے فضل سے اچھے نتائج نکلے ہوں گے لیکن بہت سی ایسی جگہیں بھی ہیں جہاں امراء کے پاس یا وقت نہیں ہے یا مزاج اور دماغ نہیں ہے کہ ان باتوں کو سن کر اس طرح ان پر عمل درآمد کریں یا بعض دفعہ ان کو ایسے مدد گار میسر نہیں ہوتے جو ان کی باتوں کوشن کر توجہ کریں اور ان کی مدد کریں۔عہدیداران کو رَبِّ اذ خلنی کی دعا پڑھنے کی تلقین پس اس لئے میں نے ان خطبات کے آخر پر دعا کی طرف توجہ دلائی تھی کہ تمام عہد یداران جوان نصیحتوں پر عمل کرنا چاہتے ہیں وہ خدا تعالیٰ سے دعا کے ذریعہ یہ مدد مانگیں کہ : رَبِّ اَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَ أَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَ اجْعَل لّي مِن لَّدُنْكَ سُلْطنًا نَصِيرًا (بنی اسرائیل: ۸۱) کہ اے میرے اللہ ! مجھے اس اعلیٰ مرتبہ اور اس اعلیٰ مقام پر فائز فرما۔مجھے اس اعلیٰ مقصد کو حاصل کرنے کی توفیق عطا فرما اَدْخِلْنِى سے مراد مجھے داخل کر دے۔مُدْخَلَ صِدْقٍ ، سچائی کے ساتھ کس میں داخل کر دے؟۔یہاں مراد یہ ہے کہ اس مقام محمود کی طرف لے جا۔اس اعلیٰ مرتبہ پر پہنچا دے جس کا تو محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ فرماتا ہے اور آپ کی غلامی میں اس کا کچھ نہ کچھ فیض ہمیں بھی میسر آنا ہے۔ساتھ ہی میں نے توجہ دلائی کہ اس دُعا کا انجام یہ بیان فرمایا گیا اور آخرت پر یہ نتیجہ نکالا گیا کہ وَ اجْعَلْ لِّي مِن لَّدُنْكَ سُلْطنًا نَّصِيرًا - میں کامیابی کی طرف کوئی بھی قدم کامیابی کے ساتھ اُٹھا نہیں سکتا جب تک مجھے تیری طرف سے کوئی مدد میسر نہ ہو جو سلطان ہو جو غالب آنے کی طاقت رکھتا ہوا یسا مددگار مجھے ضرور مہیا فرما کہ اس کے بغیر میر اسفرطے نہیں ہو سکتا تو یہاں بھی ایک نصیر کا ذکر ہے۔پس اللہ تعالیٰ