سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 218 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 218

218 بلکہ واقعہ جانچنا ہے، دیکھنا ہے، پرکھنا ہے کہ جو کچھ ہونا چاہئے وہ ہو بھی رہا ہے کہ نہیں اور کتنا ہورہا ہے۔اب کہنے کو تو سب کام کرنے والے یہ کہتے ہیں کہ جو جو ذرائع ہمارے اختیار میں تھے ہم نے پورے کر لئے ہم نے خطوط لکھے ہم نے تمام احباب جماعت کو بار بار متوجہ کیا ، ان کو بتایا کہ لٹریچر کے ذریعے ، دوسرے ذرائع سے تعلقات بڑھا کر، دعوتیں کر کے، ویڈیو دکھا کر ، آڈیوسنا کر اس طرح تم تبلیغ کر وہم سب کچھ کر چکے ہیں لیکن نتیجہ ابھی نہیں نکلا۔تو جو سب کچھ کر چکے ہیں ان میں پہلے دیکھنا یہ ہے کہ وہ کر بھی چکے ہیں کہ نہیں۔اس چیز نے آگے جا کر عملی جامہ پہنا بھی ہے کہ نہیں لیکن جو سیکرٹری تبلیغ ہے جب وہ یہ لکھ دیتا ہے تو اپنی رپورٹ میں ہمیں مطلع کر دیتا ہے کہ ہم نے سب ذرائع اختیار کر لئے حالانکہ یہ درست بات نہیں ہے۔اگر سیکرٹری تبلیغ کھیت کے کنارے پر جا کر دیکھے کہ وہاں پانی پہنچا بھی تھا کہ نہیں تو اس کو معلوم ہوگا کہ وہ سب زبانی جمع خرچ تھا۔جہاں یہ باتیں عمل میں ڈھلنی چاہئیں وہاں یہ باتیں ہی رہیں اور عملاً کچھ بھی نہیں ہوایا ہوا تو ایک دو کے سوا کسی نے کچھ نہیں کیا اور پھر جس نے جس طرح کیا اس پر نظر رکھنا یہ ایک بہت وسیع مضمون ہے۔آج کے خطبہ میں تو اس کو بیان کرنا ممکن نہیں ہوگا۔لیکن آئندہ انشاء اللہ اگر کوئی اور مضمون ایسا نہ ہوا جس کو پہلے بیان کرنا ضروری ہو تو میں اس کو مزید تفصیل سے آپ کے سامنے رکھوں گا۔دعوت الی اللہ کے لئے بار بار مجلس عاملہ کا اجلاس بلا میں سر دست میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ امراء کو ان باتوں کی روشنی میں اور جومزید باتیں میں ان کے سامنے رکھنی چاہتا ہوں ، نئے سرے سے اس سارے کام کو ترتیب دینا چاہئے۔مجلس عاملہ کی ایک میٹنگ کافی نہیں ہے۔بار بار ایسی میٹنگز بلانی پڑیں گی۔اگر ہنگامی طور پر چند دن کی رخصتیں لے کر بھی سب کو اکٹھا دن رات بیٹھنا پڑے تو ایسا کریں لیکن مقصود یہ پیش نظر ہوگا کہ ہم نے اپنی گزشتہ حالت پر راضی نہیں رہنا کیونکہ بہت بڑا کام ہے جو ہمیں کرنا ہے اور اگر ہم نہیں کریں گے تو ہم خوابوں میں بس رہے ہوں گے اور اگر اس حالت میں ہم نے جان دے دی تو پھر میر درد کا یہ شعر ہم پر بھی صادق آئے گا۔وائے نادانی کہ وقت مرگ یہ ثابت ہوا خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا پس اس خواب کو حقیقت میں بدلنا ہے۔یہ مقصد ہے اس کے لئے عزم کی ضرورت ہے۔اس کے لئے ایک چیلنج کو قبول کرنے کی ضرورت ہے اس فیصلے کی ضرورت ہے کہ ہم نے بہر حال تبدیلی کرنی ہے اور اس یقین کی ضرورت ہے کہ جو جماعت آپ کو میسر ہے اس میں اس بات کی صلاحیت موجود ہے، ہر احمدی میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ ایک سے دو اور دو سے چار ہو۔بیج خراب نہیں ہیں۔بیج صحیح استعمال نہیں ہور ہے یا جس طرح ان میں بعض دفعہ پڑے پڑے بوسیدگی سی پیدا ہو جاتی ہے۔ایسی کیفیت ہوگی لیکن بیجوں میں اُگنے کی صلاحیت ضرور موجود ہے۔