سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 207
207 آپ غور کریں تو اس کا آغاز انہی مولوی صاحب کے مباہلہ کے متعلق تالیوں اور شیخیوں کے بعد سے ہے۔پس ایسے علماء نا صرف اپنے صوبے کے لئے مصیبت بن گئے ہیں بلکہ سارے ہندوستان کے لئے خدا تعالیٰ کی ناراضگی کو بڑھانے کا موجب بن گئے ہیں۔بعض اور صوبوں میں بھی ظالم موجود ہیں۔مگر اڑیسہ والے مخالفوں کا اپنا ایک مقام ہے۔اللہ ان لوگوں کو ہدایت دے اور جہالت کی زندگی کور شد کی زندگی میں بدل دے۔اور جہالت کی ظالم موت سے بچائے۔لیکن اگر ان کے مقدر میں یہ سعادت نہیں تو پھر میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہندوستان کے بے کس اور مظلوم مسلمانوں کو ان کے اعمال اور ظالمانہ رویوں سے نجات بخشے۔جماعت احمد یہ کو بھی ایسے قومی ابتلا ؤں میں ثابت قدم رکھے جن میں اپنے دوسرے مسلمان بھائیوں کی طرح وہ بھی ضرور کچھ نہ کچھ تکلیف میں مبتلا کئے جاتے ہیں اور کئے جاتے رہے ہیں۔اسی طرح میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو صحیح رد عمل کے دکھانے اور صراط مستقیم پر مستحکم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔اور ظلم کے مقابل پر ظلم کرنے والے نہ ہوں۔جہاں آپ احمدیوں اور دیگر مسلمانوں کی تکالیف سے دکھ محسوس کرتے ہیں وہاں غریب ہندو عوام کی تکلیفوں سے بھی دکھ محسوس کریں۔صبر اور رحم کرنے والے ہوں اور صبر اور رحم کی تلقین کرنے والے ہوں۔اس جہت سے مجلس انصار اللہ اڑیسہ ایک بہت ہی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔انصار اللہ کو صبر اور رحم کی نصیحت باقیوں سے زیادہ زیب دیتی ہے اور وہ خدام کی نسبت زیادہ اہلیت رکھتے ہیں کہ صرف مسلمانوں میں ہی نہیں بلکہ غیر مسلموں میں بھی قیام امن کی کوشش کریں اور ایسی نصیحتیں کریں کہ دل نرم پڑیں اور لوگ ظالمانہ انتقام کی بجائے رحم کی طرف مائل ہوں اور ہر انسان کے دل میں خدا تعالیٰ کا خوف پیدا کریں۔آپ میں سے جو صاحب اثر ہیں وہ صوبہ کے صاحب اثر لوگوں سے مل کر ان کو نیک نصیحت کریں گویا ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے عظیم جہاد میں شامل ہوں۔آخر پر میں انصار اللہ اریسہ کو یاد دلاتا ہوں کہ سب تدبیروں سے بڑھ کر موثر تدبیر دعا ہے پس دعاؤں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے نصرت طلب کرتے رہیں۔اور اپنے صوبہ کے لئے بالخصوص مغفرت اور رحم کی دُعا مانگیں۔انسان کا انسان سے لڑنا اور ایک دوسرے پر ظلم کرنا اور ایک دوسرے کی تکلیف اور دکھ پر خوشی محسوس کرنا ایک ایسی انسانیت سے گری ہوئی چیز ہے کہ دنیا کا کوئی سچا مذ ہب بھی ایسے لوگوں کو سینے سے نہیں لگا سکتا۔صرف یہی نہیں بلکہ جانور بھی دوسرے جانور کی تکلیف سے لذت محسوس نہیں کرتے۔پس دعاؤں اور نیک نصیحتوں کے ذریعہ فساد کو امن میں بدلنے کی ہر ممکن کوشش کرتے رہیں۔اس علاقہ میں مذہب، قوم ، ملت ، اور انسانیت کا آج سب سے بڑا تقاضا یہی ہے۔اللہ تعالیٰ آپ سب کے ساتھ ہو۔دکھوں کو راحت میں بدل دے اور اندھیروں کو روشنی میں بدل دے۔جس طرح اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کویہ تو فیق عطا فرماتا ہے کہ اپنے مظلوم بھائیوں کو حتی المقدور مدد