سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 189 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 189

189 بطور مربی کسی ملک میں مقرر کیا جائے وہی امیر ہوا کرتا تھا اور دراصل اسی کی وساطت سے مرکز سے ساری جماعت کا رابطہ رہتا تھا یا بعض صورتوں میں عدم رابطہ کا بھی وہی ذمہ دار بنتا تھا۔گزشتہ چند سالوں سے اللہ تعالیٰ نے یہ توفیق عطا فرمائی کہ سارے نظام عام کو ہمہ گیر کیا جائے اور جماعت احمد یہ دنیا میں جہاں کہیں بھی پائی جائے ایک ہی نظام کی لڑیوں میں منسلک ہو۔ایک ہی اسلوب پر چل رہی ہو اور ملک ملک کا فرق نہ رہے۔اس کے ساتھ ہی کچھ عرصہ پہلے ایک یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ صدران مجالس کا تعلق براہ راست خلیفہ وقت سے ہو ނ صدران مجالس مرکز یہ یعنی خدام الاحمدیہ کے صدر اور انصار اللہ کے صدر اور لجنہ کی صدر، یہ تمام دنیا کے صدران نہ ہوں بلکہ ہر ملک کا صدر اپنے ملک کے لحاظ سے جواب دہ ہو اور وہی اس ملک میں آخری ذمہ دار ہو جس کا تعلق براہ راست خلیفہ وقت سے ہو اور اس طرح دنیا میں ہر صدارت کا نظام بھی پاکستان کے صدارت کے نظام سے متوازی جاری ہو جائے اور یہ نہ ہو کہ صدارتیں پاکستان کی صدارت کے تابع ، ان کی وساطت سے خلیفہ وقت سے رابطہ رکھیں۔ان دونوں انتظامی تبدیلیوں کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے فضل۔غیر معمولی بیداری پیدا ہوئی اور نشو و نما کے لحاظ سے ایک ایسے دور میں داخل ہوئی ہے جو خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت ہی امید افزا ہے بہت تیزی کے ساتھ جماعت کے ہر حصے، ہر شعبے اور ہر طبقہ زندگی میں بیداری پیدا ہو رہی ہے۔اس کے نتیجے میں ذمہ داریاں بھی بڑھ رہی ہیں اور بعض امراء پر اور بعض صدران پر اتنا بڑا بوجھ پڑا ہے کہ بعض دفعہ وہ پریشان ہو جاتے ہیں اور بعض دفعہ راہنمائی کے لئے مجھے لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعتی کام اس تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور جماعتی معاملات میں دلچسپی لینے والوں کی تعداد اس تیزی سے بڑھ رہی ہے اور پھر نئے نئے پروگرام بھی ملتے چلے جارہے ہیں تو کس طرح ہم ان ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوسکیں گے۔صرف ملکی سطح ہی پر نہیں بلکہ ملک کے اندر مقامی سطح پر بھی بعض احمدیوں پر جب ذمہ داری ڈالی جاتی ہے تو وہ اس ذمہ داری کے تقاضوں کے خیال سے لرزتے ہیں اور بڑے ہی انکسار اور لجاجت سے خط لکھتے ہیں کہ ہم کیسے اس اہم ذمہ داری کو ادا کر سکیں گے۔تو جہاں بیداری عام ہوتی چلی جارہی ہے وہیں بیداری کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ذمہ داریاں بھی ساتھ بڑھتی چلی جارہی ہیں۔عہدیداران کو دوباتوں کی طرف توجہ اس پہلو سے میں نے سوچا کہ آج دو باتوں کی طرف تمام دنیا کے امراء کو بھی اور صدران کو بھی اور اسی طرح ان تمام عہدیدران کو متوجہ کروں جن دو باتوں پر نظام جماعت کا انحصار ہے اور اسی طرح باقی عہدیداران بھی اس نصیحت میں شامل ہیں۔اگر وہ ان باتوں کو خوب اچھی طرح ذہن نشین کر کے ان سے