سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 170
170 ہیں۔ایسے تربیتی انتظامات جاری کر سکتے ہیں۔جن کے نتیجے میں جن لوگوں کو انہوں نے قرآن کریم سکھانا ہے ان میں سے کچھ لوگ پہلے چن لئے جائیں اور ایک جگہ نہیں کہ ضرور لندن ہی بلایا جائے یا ضرور کسی بڑی مرکزی جماعت میں ہی بلایا جائے۔جہاں جہاں ممکن ہے وہاں مختصر پیمانے پر تفقہ فی الدین سکھانے کا انتظام کر دینا چاہئے۔اس کے لئے آج کل جو ماڈرن Devices ہیں، میں نے پہلے بھی توجہ دلائی تھی ، کیسٹس ہیں، ویڈیوز ہیں، چھوٹا چھوٹا تر بیتی لٹریچر ہے اس کو بھی شائع کریں لیکن یہ یاد رکھیں کہ جو ذاتی تربیت فائدہ پہنچا سکتی ہے۔وہ محض لٹریچر یا ویڈیوز وغیرہ کے ذریعہ فائدہ حاصل نہیں ہوسکتا۔یہ متبادل چیزیں ہیں۔تیم کا رنگ رکھتی ہیں۔قرآن کریم نے جو زور دیا ہے وہ اس بات پر ہے کہ ذاتی تربیت کی جائے اور ذاتی تربیت اسی طرح ممکن ہے کہ کچھ لوگ آئیں۔آپ ان کو سکھائیں۔ان کو سکھانے کے لئے ان آلات سے مدد بے شک لیں مگر مربی ہونا ضروری ہے کوئی تربیت دینے والا آپ کے لئے ضروری ہے کہ ان کو مہیا کیا جائے اور پھر اس کے تابع آپ ان کو سمجھا کر خواہ تھوڑ اسمجھائیں لیکن کچھ سمجھا کر واپس بھیجیں اور ان کو کہیں کہ یہ تم آگے جاری کر دو۔پس قرآن کریم نے جو نظام جاری کیا ہے وہ اس وقف عارضی کے موجودہ نظام سے بھی کچھ مختلف ہے اور بعض اہم پہلوؤں سے مختلف ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اور قرآن کریم کی جو کلاسز کا ہمارے ہاں رواج ہے اس سے بھی مختلف ہے۔قرآن کریم کے جو درس جاری کئے جاتے ہیں یا سالانہ کلاسز کا انتظام کیا جاتا ہے اس میں آپ طالب علموں کو بحیثیت طالب علم کچھ سکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔قرآن کریم کی اس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ آپ نے استاد بنانا ہے۔طالب علم نہیں بنانا۔اب ان دو باتوں میں بڑا فرق ہے۔ایک بچے کو اس غرض سے پڑھایا جائے کہ وہ خود بات سمجھ لے اور اس کی ذات تک اس کو علم حاصل ہو جائے۔یہ ایک اور بات ہے لیکن اس نیت سے پڑھایا جائے کہ وہ جا کر دوسروں کو پڑھا جاسکے۔یہ ایک بالکل اور بات ہے۔ہٹلر کی ایک تجویز اور اس پر تبصرہ چنانچہ میں نے کئی دفعہ ذکر کیا ہے ہٹلر کے ایک جرنیل کی تجویز کا کہ جب جرمنی میں یہ پابندی تھی کہ ایک لاکھ سے زیادہ جرمن فوج نہیں ہو سکتی یعنی جرمن قوم ایک لاکھ سے زیادہ فوج رکھ نہیں سکتی تو اس قابل جرنیل نے یہ تجویز ہٹلر کے سامنے پیش کی کہ بجائے اس کے کہ ہم ایک لاکھ سپاہی پیدا کریں۔کیوں نہ ہم ایک لاکھ سپاہی بنانے والے افسر بنادیں تعداد کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ایک لاکھ ہی رہے گا لیکن بجائے اس کے کہ ہم شاگرد بنا ئیں۔استاد پیدا کرتے ہیں۔یہ ترکیب بڑی مشہور ہوئی اور دنیا میں بعد میں بھی بڑے بڑے اس پر تبصرے کئے گئے۔چرچل نے اپنی مشہور کتاب میں بھی اس کے متعلق لکھا ہے کہ یہ اس کے دماغ کی ایک حیرت انگیز Brain Wave تھی جس نے ساری جرمن قوم کی کایا پلٹ دی اور ہماری