سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 71
71 یہ سہولت ہو کہ جماعت کے خرچ پر جبکہ کوئی نہیں دیکھ رہا جتنا چاہے فون کر لے اور ہرلمحہ جو گزرتا ہے اس کا فون پر اس کا دل اتنا نہ کٹ رہا ہو کہ جماعت کا اتنا خرچ ہو رہا ہے تو یہاں اس کو میں کہتا ہوں وہ بے احتیاطی جو بددیانتی پر منتج ہو جاتی ہے۔خواہ انسان واضح طور پر اس بات کو سوچے یا نہ سوچے لیکن بہترین حل اس کا یہ ہے کہ ہر وہ خرچ جو اپنے طور پر وہ کر سکتا ہے اگر اس خرچ کے وقت اس کو تکلیف ہوتی ہے اور جماعت کے اسی قسم کے خرچ پر تکلیف نہیں ہوتی تو ایسا شخص تقویٰ کے معیار سے گرا ہوا ہے۔بجلیاں جل رہی ہیں تو جلتی چلی جا رہی ہیں، پر واہ ہی کوئی نہیں اور بے شمار خرج اس کی وجہ سے ہو جاتا ہے۔سردی کے موسم میں گرمی کی ضرورت پڑتی ہے، گیس جل رہی ہے اور بعض دفعہ ضرورت سے زیادہ جل رہی ہے، کھڑکیاں بھی کھلی ہیں تب بھی کوئی پرواہ نہیں۔ان چیزوں کو آپ بے احتیاطیاں کہیں گے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ یہ بے احتیاطیاں بے دردی کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہیں اور بے دردی اور بے حسی اور تقویٰ اکٹھے نہیں رہا کرتے۔ایسی بے درد دی اور ایسی بے حسی جو فرق کر کے دکھائے۔جماعت کے خرچ میں تو موجود ہو اور ذاتی خرچ میں موجود نہ ہو وہ تقویٰ کے خلاف ہے اور یہ صورت حال بالآخر بد دیانتی پر منتج ہو جاتی ہے۔اسی لئے اب ہم نے آڈٹ کے انتظام کو زیادہ منظم کیا ہے اور بہت زور دیا جا رہا ہے کہ ہر جگہ آزاد آڈیٹر یعنی حساب کرنے والے جو جماعتی نظام سے بالکل آزاد ہوں، وہ اپنی رپورٹیں براہ راست مجھے بھجوائیں اور ایک سرسری نظر ڈالنے سے ہی آڈٹ کی رپورٹ پر اندازہ ہو جاتا ہے کہ کس ملک میں کیا ہو رہا ہے۔آڈٹ کے لئے اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کا اندرونی نگران مقرر کر رکھا ہے اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ ایسے مواقع پیش نہیں آنے چاہئیں کہ آڈٹ کے نظام پر اتنا زور دینا پڑے کیونکہ آڈٹ کا نظام حقیقت میں اموال کی صحیح حفاظت یا پوری حفاظت نہیں کر سکتا۔کوئی نگران جو بیرونی ہو وہ سچی اور حقیقی حفاظت اموال کی کر ہی نہیں سکتا۔خدا تعالیٰ نے تقویٰ کا ایک اندرونی نگران مقرر فرما دیا ہے اور یہ وہ نگران ہے جس کا براہ راست عالم الغیب والشہادہ سے تعلق ہے کیونکہ تقویٰ خدا کی ذات سے پھوٹتا ہے۔اس کا مستقل رشتہ ہمیشہ کا ایک رابطہ ہے اپنے رب کے ساتھ۔اس لئے اس کو بھی خدا تعالیٰ نے عالم الغيب والشهادة كى صفات عطا فرما دی ہیں۔تقویٰ کی آنکھ وہ بھی دیکھ رہی ہوتی ہے جو بیرونی آڈیٹر کو نظر آتا ہے اور وہ بھی دیکھ رہی ہوتی ہے جو بیرونی آڈیٹر کو نظر ہی نہیں آسکتا۔ان باریکیوں تک بھی چلی جاتی ہے جو نیتوں کے پردوں میں چھپی ہوئی ہوتی ہیں۔اس لئے تقویٰ کی بصیرت کو تیز کریں اور اسی کی اپنا نگران بنا ئیں۔اگر آپ اس طرح کریں گے تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ آپ کے اموال میں بھی برکت پڑے گی اور جماعت کے اموال میں بھی ہر لحاظ سے برکت پڑے گی۔اگر ایک آنہ آپ خرچ کریں گے تو تقویٰ کے ساتھ خرچ کیا جانے والا آنہ ایک آنے کی قیمت نہیں