سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 428
428 $1995 ذیلی تنظیموں کی صحت کے لئے ضروری ہے کہ وہ جماعت کے بدن کا ایک جزو بن کرر ہیں (خطبہ جمعہ 26 مئی 1995ء) اللہ تعالیٰ نے بڑا احسان کیا ہے کہ جماعت جرمنی ہر پہلو سے ہر شعبہ کے لحاظ سے ترقی کی طرف تیزی کے ساتھ رواں دواں ہے اور ذیلی تنظیمیں اپنے اپنے مقام اور مرتبہ کو سمجھتے ہوئے عمومی طور پر جماعت کا ایک صحت مند جز بنی ہوئی ہیں اور ان کی اپنی صحت کے لئے ضروری ہے کہ وہ جماعت کے بدن کا ایک جز بن کر رہیں اس سے الگ اپنی کوئی شخصیت نہ بنا بیٹھیں جیسے ایک بدن کے اندر کوئی بیرونی شخصیت پیدا ہو جاتی ہے۔یہ اس لئے ضروری ہے کہ اگر ایک بدن کا کوئی عضو یا کسی عضو کا کوئی حصہ اپنا الگ تشخص بنا بیٹھے تو اسی کا نام کینسر ہوا کرتا ہے اور یہ کینسر پھر باقی بدن کو بھی کھا جاتا ہے۔اسی لیے نظام جماعت کے متعلق حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مسلمان کی تعریف فرمائی ہے وہی صادق آئے تو یہ نظام زندہ رہے گا ورنہ ختم ہو جائے گا۔آپ نے فرمایا مومن ایسے بھائی بھائی ہیں کہ گویا ایک بدن کے عضاء ہیں اور بدن میں اگر پاؤں کی انگلی کے کنارے پر بھی کوئی تکلیف پہنچے تو سارا بدن بے چین ہو جاتا ہے۔اس لئے مجلس خدام الاحمدیہ ہو یا مجلس انصار الله یا مجلس لجنہ اماءاللہ یا ذیلی تنظیمیں یا اور کئی قسم کے ذیلی گر وہ ہوں جو خدمت دین کے لئے بنائے جاتے ہیں وہ ہمیشہ یادرکھیں کہ وہ ایک بدن کا حصہ رہ کر ہی زندہ رہ سکتے ہیں اور ایک بدن کا حصہ رہ کر ہی دوسرے بدن کے لئے خوشخبری کا پیغام بنتے ہیں ورنہ اگر انہوں نے اپنا الگ تشخص قائم کرنے کی کوشش کی تو باقی سب بدن کے لئے نحوست اور لعنت کا پیغام بن جائیں گے۔جرمنی کی ذیلی تنظیمیں الحمد للہ بدن کا حصہ ہیں اس پہلو سے مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے اور دلی اطمینان کے ساتھ میں کہہ سکتا ہوں کہ اللہ کے فضل سے اگر شروع میں کبھی کچھ ذیلی گروہوں کی طرف سے سر اٹھانے کے رجحانات پیدا بھی ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے یکسر مٹادیا ہے۔اور میں سمجھتا ہوں وہ رجحانات بھی لاعلمی یا غلط فہمی کی وجہ سے ہوئے تھے عدم تربیت کا نتیجہ تھے ، دلوں میں کوئی ایسی بھی نہیں تھی کہ وہ ایک مستقل خطرہ بن جاتے۔پس الحمد اللہ اس وقت جماعت جرمنی ایک ہاتھ کے نیچے اس طرح اکٹھی ہے جس طرح اسلام کا تصور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش فرمایا ہے۔سب ایک ہی بدن کا حصہ ہیں، ایک دوسرے کی خوشی کو محسوس