سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 393
393 جگہ اکٹھے ہو جاتے ہیں۔آنحضور صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم فرماتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس نے میرے دوست سے دشمنی کی میں اس سے اعلان جنگ کرتا ہوں میرا بندہ جتنا میرا قرب، اس چیز سے جو مجھے پسند ہے اور میں نے اس پر فرض کر دی ہے، حاصل کر سکتا ہے اتنا کسی اور چیز سے حاصل نہیں کرسکتا۔اس میں ذکر کے تمام جھوٹے طریقوں کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا گیا۔اللہ فرماتا ہے کہ میں کسی سے محبت اس لئے نہیں کرتا کہ وہ میرا نام لیتا رہتا ہے میں سب سے زیادہ محبت اس شخص سے کرتا ہوں جو سب سے زیادہ میرے احکامات کی پیروی کرتا ہے۔شریعت پر چلنے والا ہے۔وہ شریعت جو میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کی جو محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بن گئی وہی سچا ذکر ہے اسی میں سب سے زیادہ خدا تعالیٰ کے قرب کی راہیں ملیں گی۔خدا تعالیٰ کے قرب کے ذریعے حاصل ہوں گے۔پس جو چیز مجھے پسند ہے اور میں نے اس پر فرض کر دی ہے جو وہ کرتا ہے وہ مجھے سب سے زیادہ پیارا لگتا ہے اور نوافل کے ذریعے سے میرا بندہ میرے قریب ہو جاتا ہے۔فرائض لازم ہیں اس کے بغیر قرب کا کوئی سوال ہی نہیں ہے نوافل اس قرب کو آگے بڑھانے والے بنتے ہیں۔فرماتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں اور جب میں اس کو اپنا دوست بنالیتا ہوں تو اس کے کان بن جاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے۔اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جن سے وہ پکڑتا ہے اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے یعنی میں ہی اس کا کار ساز ہوتا ہوں اگر وہ مجھ سے مانگتا ہے تو میں اس کو دیتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے پناہ چاہتا ہے تو میں اسے پناہ دیتا ہوں پس اس کیفیت میں مانگنے کی نفی نہیں ہے فرمایا نہ بھی مانگے تب بھی میں اس سے یہ سلوک کرتا ہوں لیکن جب مانگتا ہے تو اور بھی زیادہ پیار سے اس کو دیتا ہوں اور زیادہ بڑھا کر دیتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: یادر ہے کہ بندہ تو حسن معاملہ دکھلا کر اپنے صدق سے بھری ہوئی محبت ظاہر کرتا ہے مگر خدا تعالیٰ اس کے مقابلہ پر حد ہی کر دیتا ہے اس کی تیز رفتار کے مقابل پر برق کی طرح اس کی طرف دوڑتا چلا آتا ہے اور زمین و آسمان سے اس کے لئے نشان ظاہر کرتا ہے اور اس کے دوستوں کا دوست اور اس کے دشمنوں کا دشمن بن جاتا ہے اور اگر پچاس کروڑ انسان بھی اس کی مخالفت پر کھڑا ہو تو ان کو ایسا ذلیل اور بے دست و پا کر دیتا ہے جیسا کہ ایک مرا ہوا کیڑا اور محض ایک شخص کی خاطر کے لئے ایک دنیا کو ہلاک کر دیتا ہے اور اپنی زمین و آسمان کو اس کے خادم بنا دیتا ہے اور اس کے کلام میں برکت ڈال دیتا ہے اور اس کے تمام در و دیوار پر نور کی بارش کرتا ہے اور اس کی پوشاک میں اور اس کی خوراک میں اور اس مٹی میں بھی جس پر اس کا قدم پڑتا ہے ایک برکت رکھ دیتا ہے اور اس کو نا مراد ہلاک نہیں کرتا اور ہر ایک اعتراض جو اس پر ہواس کا آپ جواب دیتا ہے وہ اس کی آنکھیں ہو جاتا ہے جن سے وہ دیکھتا ہے اور اس کے کان ہو جاتا ہے جن سے وہ سنتا ہے اور اس کی