سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 25 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 25

25 حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیں سکھا گئے ہیں ان سے باہر نکلنے کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں۔اس چار دیواری کے اندر رہتے ہوئے ہم عظیم الشان فتوحات حاصل کر سکتے ہیں۔مسجد سپین کے افتتاح کے نتیجہ میں ذمہ داریوں کا احساس کریں دوسرا حصہ جس کی طرف میں آپ کی توجہ دلانی چاہتا ہوں۔وہ ان ذمہ داریوں سے تعلق رکھتا ہے جو مسجد بشارت ( سپین ) کے افتتاح کے بعد خصوصیت کے ساتھ ہم پر عائد ہوتی ہیں۔میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا کہ مسجد بشارت (سپین) کی تعمیر اور اس کا افتتاح ایک عام مسجد کی تعمیر اور ایک عام مسجد کا افتتاح نہیں ہے اور اگر یہی مقصود ہو تو اس کے کوئی بھی معنی نہیں ہیں یعنی کسی جگہ ایک مسجد بنادی جائے اور ساری دنیا میں اپنی فتح کے گیت گاتے پھریں کہ عظیم الشان فتح ہو گئی ، پین فتح ہو گیا۔اس سے بڑی بے وقوفی کوئی نہیں ہوگی۔جنت الحمقاء میں بسنا اسی کا نام ہے مسجد کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں وہ پورے کرنے پڑیں گے اور وہ عظیم الشان تقاضے ہیں جو بے انتہا سمتوں میں پھیلے پڑے ہیں۔مجھ سے پین میں جب یہ سوال ہوا کہ اس مسجد کے بعد آپ اگلی مسجد کہاں بنا ئیں گے اور کب بنائیں گے۔؟ تو میں نے کہا کہ آپ کو یہ فکر لگی ہوئی ہے۔مگر مجھے تو یہ فکر ہے کہ اس مسجد کے لئے نمازی کہاں سے آئیں گے۔میں انشاء اللہ تعالیٰ پہلے پین میں نمازی پیدا کروں گا جب یہ مسجد بھر جائے گی اور اس کی دیوار میں پھٹنے والی ہوں گی تب ہم اس کو بھی وسیع کریں گے اور نئی مسجد میں بھی بنائیں گے۔انشاء اللہ تعالیٰ۔پس اسی پیغام کے تحت میں نے یورپ کی مجالس اور جماعتوں کے سامنے مختلف پروگرام رکھے اور آپ کے سامنے بھی رکھتا ہوں۔غیر ملکی زبانیں سیکھیں اور اس میں مہارت حاصل کریں سب سے اہم چیز یہ ہے کہ جس قوم کو آپ نے مخاطب ہونا ہے اس قوم کی زبان ہی اگر آپ کو نہ آتی ہو تو آپ مخاطب کس طرح ہوں گے۔اس قوم کے کردار کا آپ نے مطالعہ نہ کیا ہو تو آپ کو کیا پتہ لگے گا کہ کس طرح اس قوم کے دل جیتے جا سکتے ہیں اس کی تاریخ کا آپ کو علم ہونا چاہئے۔اس کے جغرافیائی حالات کا علم ہونا چاہئے سیاسی رجحانات کا آپ کو علم ہونا چاہئے اور اس ملک کی زبان پر مقدرت حاصل کرنے کے بعد آپ کو وہاں بکثرت مبلغ بھیجنے چاہئیں ایک یا دو یا تین مبلغوں سے تو ملک فتح نہیں ہوا کرتے۔آپ کو ایسی پلاننگ کرنی پڑے گی کہ سپین کے ہر حصے میں مستقلاً رابطے کا انتظام ہواو پھر اس زبان میں لٹریچر پیدا کیا جائے۔اس زبان کی ضرورتوں کو صوتی آلوں کے ذریعے بھی پورا کیا جائے اور نشر واشاعت کے ذریعے بھی پورا کیا جائے۔یہ اتنا بڑا کام ہے کہ اگر خدا تعالیٰ توفیق نہ دے تو اس کو سرانجام دینا ناممکن ہے۔اگر ہم صرف