سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 264
264 قلة وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ (البقره: 287) اے خدا ! ہم نے تیرے لئے بوجھ اٹھائے ہیں ہم پر جو تو بوجھ ڈالتا ہے ایسے بوجھ نہ ہوں جن کو اٹھانے کی ہم میں طاقت نہ ہو۔اس مضمون کی دعا کو دل کی گہرائی سے کرنے کے نتیجہ میں انسان سمجھ سکتا ہے اُس کے بغیر نہیں سمجھ سکتا۔وہ شخص جس نے دن بھر محنت کی ہو اور پھر رات کو یہ دعا کرتا ہے اُس پر دعا کا حقیقی مضمون روشن ہوتا ہے۔وہ یہ نہیں سمجھ رہا ہوتا کہ خدا مجھ پر ایسی ذمہ داری ڈال دے گا جس کی مجھ میں طاقت ہی نہیں ہے۔وہ اس رنگ میں اس دعا کا مفہوم سمجھتا ہے کہ اے خدا میرے بوجھ تو نے ہلکے کرنے ہیں مجھ میں تو کوئی طاقت نہیں ہے۔جو تو نے بوجھ ڈالے ہیں اُس کی طاقت بھی عطا کر۔یہ مراد ہے اس دعا سے۔ج رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ ، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جو میں کام نہیں کرتا وہ میرے سر سے ٹالتا چلا جا۔اگر یہ مطلب ہوتو ہر انسان دنیا کا سب سے نکما انسان بن کر مرے گا کیونکہ انسان کو عادت ہے کام کو ٹالنے کی۔مراد یہ ہے کہ اے خدا میں نے کر کے دیکھا ہے یعنی جان ماری ہے اور میں جانتا ہوں کہ مجھ میں طاقت نہیں ہے پس تو تو طاقت سے بڑھ کر بوجھ ڈالنے والا نہیں ہے، میری طاقت بڑھا، یہ اس دعا کا مفہوم ہے اللہ تعالیٰ پھر طاقت بڑھاتا چلا جاتا ہے اور میرا تجربہ ہے ساری زندگی کا کہ کبھی یہ دعا نا مقبول نہیں ہوتی ، رونہیں کی جاتی ہے۔اگر اس کے مضمون کا حق ادا کرتے ہوئے اس کو سمجھتے ہوئے آپ یہ دعا کرتے ہیں تو خدا دعا ضرور سنتا ہے، ضرور آپ کو طاقت عطا فرماتا ہے آپ کے مدد گار مہیا کرتا ہے۔دنیا کے حالات میں تبدیلیاں پیدا کرتا ہے، آپ کی وہ دلی خواہشات جو اُس کی خاطر دل میں پیدا ہوئی ہیں اُن کو پورا کرنے کی کوشش فرماتا ہے۔پس ایک عہد یدار جب اپنی امانت کا حق ادا کرنا چاہے تو دو ہی رستے ہیں۔ایک یہ کہ وہ اپنی امانت کو سمجھے کہ ہے کیا؟ اُس کا احاطہ کرے۔اُس کی تفاصیل کا اُس کو علم ہونا چاہئے اور پھر وہ ہر اس چیز پر ہاتھ ڈالے جس کی اُس میں طاقت ہے۔خواہ تدریجا ڈالے مگر چھوڑے نہ رکھے۔ایک بھی پہلو اُس کی امانت کا ایسا نہ ہو جسے وہ اٹھانے کی کوشش نہ کرے۔ایک دم میں نہیں اٹھتی تو رفتہ رفتہ اٹھائے لیکن اٹھائے ضرور۔جب کوئی امانت کا حق ادا کرنے کی کوشش کرے اُس کا بوجھ محسوس ہوتا ہو اُس وقت یہ دعا کرے کیونکہ بغیر بوجھ محسوس کئے جو دعا کی جاتی ہے۔اے خدا! ہمارے بوجھ ٹال دے ہم میں طاقت سے بڑھ کر بوجھ ہے، یہ فرضی اور خیالی باتیں ہیں اس دعا کا حقیقت سے ، خدا کی قبولیت سے تعلق قائم نہیں ہوتا۔جب بھوکا روٹی مانگتا ہے تو اُس کی آواز اور ہوتی ہے اور بغیر بھوک کے آپ روٹی کی طلب کریں آواز میں فرق ہوگا زمین آسمان کا فرق ہو گا تبھی خدا تعالیٰ نے دعا کے ساتھ مضطر کی شرط لگادی ہے کہ جب میں مضطر کی آواز سنتا ہوں تو اُس کی آواز کو قبول کرتا ہوں۔ایک عہدے کا اضطراب یہ ہے کہ وہ کام پر ہاتھ ڈالے اُس کا بوجھ محسوس کرے جانتا ہو کہ اکیلا