سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 234
234 عہدیداران اپنے نفوس کا محاسبہ کریں (خطبہ جمعہ 6 دسمبر 1991ء) دعوت الی اللہ سے متعلقہ عہد یداران ہر داعی الی اللہ کا کھاتہ بنائیں انفرادی طور پر نظر رکھنے کا کام چونکہ بہت مشکل کام ہے یعنی اگر کسی کو شوق ہوان کاموں کا تو اس کے لئے مشکل تو نہیں لیکن وقت کی مجبوری ہے اور ایک سیکرٹری دعوت الی اللہ یا سیکرٹری اصلاح وارشاد جو ایک بڑے ملک کے مرکزی عہدے پر فائز ہے اس کے لئے الگ الگ ممکن ہی نہیں ہے کہ تفصیلاً ہر ایک کے معاملات پر اس طرح گہری نظر رکھے جس طرح میں بیان کر رہا ہوں تو اس سلسلے میں میری تجویز یہ ہے کہ مقامی سیکرٹریان کی تربیت کی جائے ، ان کو سمجھایا جائے اور ان کو یہ بتایا جائے کہ تم جو ہمیں رپورٹیں بھیجتے ہو کہ ہمیں پتا لگ جائے اتنے لوگ دعوت الی اللہ کر رہے ہیں یہ کوئی طریق نہیں ہے۔تم ہر دعوت الی اللہ کرنے والے کا کھاتہ بناؤ، اس کا ایک رجسٹر رکھو اور اس سے ہر ہفتہ رپورٹ لیا کرو اور بوجھ نہ ڈالو بلکہ ہلکے طریق پر پوچھ لیا کرو کہ کیا اس دفعہ کوئی تجربہ ہوا، کوئی کام ہوا کہ نہیں؟ اگر زیادہ بوجھ ڈالو گے، زیادہ مطالبے شروع کر دو گے تو وہ بھاگنا شروع ہو جائے گا تم سے اس لئے پیار محبت سے ہلکا ہلکا یاد دہانی کرواتے رہو اور اس کے کوائف کا ہر ہفتے اندراج کرو اور اس طرح ہر شخص پر باقاعدہ کھا نہ بننا چاہئے کہ اندراج کرنے کے بعد پھر ایک ایسا خانہ رکھو جس پر یہ درج کرو کہ ان معلومات سے میں نے کیا فائدہ اٹھایا ہے یا ان معلومات کو حاصل کرنے کے بعد شخص متعلقہ کو کیا فائدہ پہنچایا ہے؟ اگر یہ نہیں کرو گے تو پھر ان کاغذی اندراجات کی کوئی بھی حقیقت نہیں ہوگی۔ایسے اندراجات سے دفتر کے دفتر سیاہ ہو جایا کرتے ہیں اور ایسے اندراجات فائلوں میں دب کر نظر سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔لکھنے والا سمجھتا ہے کہ میں نے فرض ادا کر دیا مگر اس فرض کی ادائیگی کا فائدہ کوئی نہیں پہنچتا۔پس مومن کے وقت کی بڑی قیمت ہے۔فضول کاموں سے اس کو بچنا چاہئے یعنی اپنے کاموں کو فضول نہیں ہونے دینا چاہئے۔یہ بھی تو اس کا مطلب ہے۔پس ہر کام کی زیادہ سے زیادہ قیمت وصول کرنی چاہئے۔میرے ذہن میں جو نقشہ ہے وہ یہ ہے کہ مثلاً اگر میرے سپرد کئے جائیں چند دا عین الی اللہ۔میں ان سے ہر ہفتے رابطہ رکھوں گا ان سے پوچھوں گا کہ بتاؤ تم نے کیا کیا ؟ کچھ نہیں کیا تو ان کو بعض مشورے دے دوں گا کہ اچھا یہ کر کے دیکھ لیں، فلاں چیز آزما لیں۔یہ پوچھ لوں گا مثلا کہ آپ کے کوئی دوست آپ کے پاس آتے جاتے ہیں، ان کے پتے مجھے دے دیں میں ان کو کچھ لڑ پچر بھجوا دیتا ہوں۔ہوسکتا ہے آپ کے اور ان کے درمیان ایک شرم حائل ہو لیکن جب میں بھیجوں گا تو وہ شرم ٹوٹ جائے گی وہ خود آپ سے پوچھنا شروع کر دیں گے۔یہ ایک مثال ہے ایسی اور بہت سی باتیں سوچی جاسکتی ہیں اور ہر شخص کے حالات کے مطابق الگ الگ بات ذہن میں آسکتی ہے۔تو پہلی بات تو یہ کہ رابطے کے معاً بعد سیکرٹری کو یہ بتانا چاہئے کہ اسے اس