سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 99 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 99

99 میرا ساری زندگی کا تجربہ ہے یعنی میں تو خلیفہ ابھی چند سال ہوئے بنا لیکن میں نے دو خلافتوں کو دیکھا ہے بڑے غور کے ساتھ اور قریب سے اور میرا ساری زندگی کے تجربے کا نچوڑ یہ ہے کہ خلیفہ وقت کی ہدایت پر اگر آپ اخلاص کے ساتھ سنجیدگی کے ساتھ توجہ دیں گے خواہ آپ کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے تو آپ کے کاموں میں غیر معمولی برکت پڑے گی اور اگر آپ ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے بھلا ئیں گے تو پھر آپ کے کاموں میں سے برکت اٹھ جائے گی۔جماعت کو اس وقت بڑی تیزی کے ساتھ کام کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے اور کثرت کے ساتھ الزراع پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔اس لئے اس معاملے کی طرف زیادہ سنجیدگی سے توجہ کرنی چاہئے۔" ( خطبات طاہر جلد 6 صفحہ 731-733) ذیلی تنظیموں کو بھی جماعت کی انجمنوں کے ساتھ قدم ملا کر آگے بڑھنا چاہئے خطبہ جمعہ 25 دسمبر 1987ء) اطفال الاحمدیہ کے چندے میں بھی جو اطفال کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے اس میں بھی عمومی طور پر تو ترقی ہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ جس انجمن کے سپر د اطفال کا چندہ ہے انہوں نے سنتی دکھائی ہے کیونکہ گزشتہ سال سے بعض جماعتوں میں اطفال کے چندوں میں نمایاں کمی ہے جبکہ بالغوں کے چندے میں نمایاں ترقی ہے اس کا مطلب ہے جماعت کا کوئی قصور نہیں ہے جن انجمنوں کے سپرد یہ ذمہ داری ہے کہ وہ فلاں چندے کو سنبھالیں، فلاں چندے میں جماعت کو آگے لے کر بڑھیں ان انجمنوں کی غلطی ہے، ان مجالس کی غلطی ہے۔اس لئے جو ذیلی مجالس تنظیمیں ہیں ان کو بھی جماعت کی انجمنوں کے ساتھ قدم ملا کر آگے کو چلنا چاہئے یعنی جب تک وہ آگے بڑھتی ہیں قدم ملا کے آگے بڑھیں اگر وہ پیچھے رہیں تو پھر بے شک آگے نکل جائیں لیکن پیچھے رہنے کا حق نہیں ہے بہر حال۔اس لئے میں امید رکھتا ہوں کہ ذیلی انجمنیں جن کے سپر دالگ الگ خدمت کے کام کئے گئے ہیں وہ ان کی طرف نظر رکھیں گی اور پہلے کی نسبت بہتر کام کریں گی۔" خطبات طاہر جلد 6 صفحہ 880)