سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 72
72 دیتا وہ بعض دفعہ لکھوکھہا روپے کی قیمت دے دیتا ہے۔یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو اللہ پر ایمان لانے والے ہی سمجھ سکتے ہیں، دنیا دار کو اس بات کی سمجھ ہی نہیں آسکتی اور پھر بے شمار تقویٰ کے نتائج دور رس ظاہر ہوتے چلے جاتے ہیں جو آئندہ نسلوں تک بھی پہنچتے ہیں۔اس لئے اس بارے میں جتنی بھی تاکید کی جائے کم ہے کہ خرچ کرنے والے تقویٰ کے معیار پر قائم ہوں اور اگر کسی کی آنکھ کے سامنے ان کے نقائص نہیں بھی آتے تب بھی خدا کا خوف اختیار کریں کیونکہ دنیا کے اموال کھانا بھی ایک بد دیانتی ہے اور مکروہ چیز ہے لیکن وہ مال جو دینے والوں نے پتہ نہیں کس کس پاکیزہ نیت کے ساتھ ، کسی پیار کے ساتھ کس محبت کے ساتھ کیا کیا قربانیاں کرتے ہوئے اپنے رب کے حضور پیش کیا۔اس مال پر منہ مارنا تو نہایت ہی گندی حرکت ہے۔عام معیار سے بہت زیادہ گری ہوئی حرکت ہے۔" ( خطبات طاہر جلد 5 صفحہ 261-265) ہندوستان میں تحریک شدھی میں انصار کو اپنا کردار ادا کرنے کی تلقین (خطبہ جمعہ 22 اگست 1986ء) یہ بھی ایک تحریک ہے جو شدھی کی جس کا مقابلہ ہم بڑی کامیابی سے کر رہے ہیں۔لیکن اگر ہندوستان کی حکومت یہ بجھتی ہے کہ اتنے خوفناک حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے جماعت اس طرح پھنس چکی ہے کہ وہ ہماری تحریک کو نظر انداز کر دے گی تو اس خواب و خیال کی دنیا سے باہر آجائیں۔کسی قیمت پر بھی اسلام کے خلاف ہونے والے حملے کو جماعت احمد یہ ہر گز نظر انداز نہیں کر سکتی۔کہیں بھی یہ حملہ ہو گا کہیں بھی اسلام کو بری آنکھ سے دیکھا جائے گا تو صف اول پر لڑنے کے لئے ہمیشہ جماعت احمدیہ کے خدام اور انصار اور ضرورت پڑی تو مستورات بھی سامنے آئیں گی۔ہندوستان میں تحریک شدھی کے خلاف جہاد کا اعلان اس لئے میں ہندوستان میں شدھی کی تحریک کے خلاف جہاد کا ایک عام اعلان کر رہا ہوں۔اور اس وقت ناظر صاحب اعلیٰ بھارت حسن اتفاق سے یہیں موجود ہیں اور ایڈیشنل ناظر صاحب امور عامہ بھی یہاں موجود ہیں اس لئے ان کو اب جلد سے جلد واپس چلے جانا چاہئے مجھ سے ہدایات لے کر اور بڑی تیزی کے ساتھ اتنا نمایاں خدمت کا کام کرنا چاہئے کہ دشمن کی زبان سے اسکی پکار ہم سنے لگیں۔دشمن کے قلم سے ان واقعات کو پڑھنے لگیں اور اس کی گونج سارے بھارت میں سنائی دینے لگے۔اس شدت کے ساتھ اس