سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 45
45 گھر میں نماز پڑھنے کے سلسلہ میں ایک نابینا کا واقعہ جہاں تک نماز با جماعت کا تعلق ہے کجا یہ کہ انسان گھر میں بیٹھا ہوا ہو یا دفتر میں ہو اور مسجد تک نہ جائے اور کجا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ اور آپ کی تعلیم کہ ایک اندھا جو دور سے آذان کی آواز سنتا ہے اس کو بھی گھر پر نماز پڑھنے کی اجازت دینے کے بعد اجازت واپس لے لیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ تمہیں جماعت کے بغیر نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہے۔واقعہ یوں ہوا کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک نابینا حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ مدینہ کی گلیوں میں ٹھوکریں لگتی ہیں۔مختلف حدیثوں میں مختلف تفاصیل ملتی ہیں۔کہیں آتا ہے کہ اس نے کہا رات کو جنگلی جانوروں کا خطرہ بھی ہوتا ہے اور کہیں آتا ہے کہ مجھے ساتھ لے جانے والا کوئی نہیں ہے اس لئے مجھے اجازت دی جائے کہ میں گھر پر ہی نماز پڑھ لیا کروں۔آپ نے اجازت فرما دی۔جب وہ اٹھ کر جانے لگا اور ابھی قدم باہر رکھا ہی تھا تو حضور نے اسے واپس بلایا کہ بات سن جاؤ اس نے عرض کی یا رسول اللہ ! کیا بات ہے؟ حضور نے فرمایا هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ بِالصَّلوة کہ کیا تمہیں نِدَاءَ بالصلوۃ آتی ہے؟ اس سے مراد اذ ان لے لیں یا تکبیر لے لیں حضور کا مقصد یہ تھا کہ نماز کی طرف بلانے کی آواز تمہارے کان میں پڑتی ہے یا نہیں اس نے کہا یا رسول اللہ ! میں آواز سنتا ہوں۔تو فرمایا پھر جواب دیا کرو تمہیں یہ اجازت نہیں ہے کہ تمہارے کانوں میں آواز پڑے اور اس کے باوجود تم انکار کر دو۔اے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلیم دینے کا عجیب طریق تھا اور اتنا لطیف اور پیارا کہ آپ کی باتوں کی تہہ میں جائیں تو حسن ہی حسن نظر آتا ہے اس نابینا آدمی کو یہ تعلیم دی کہ تم آنکھوں سے تو محروم ہولیکن کانوں کو ثواب سے کیوں محروم رکھتے ہو ؟ جن اعضاء کے ذریعے تمہیں خدا کی طرف بلایا جارہا ہے وہاں سے تو لبیک کہ دو۔ایک بدقسمتی کے نتیجے میں دوسری بد قسمتی کیوں مول لیتے ہو؟ لے مسلم کی روایت ہے:۔عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ ﷺ وَ رَجُلٌ أَعْمَىٰ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَيْسَ لِي قَائِدٌ يَقُودُنِي إِلَى الْمَسْجِدِ فَسَأَلَ رَسُولَ اللهِ ﷺ أَنْ يُرَخِّصَ لَهُ فَيُصَلِّي فِي بَيْتِهِ رَخَّصَ لَهُ فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ فَقَالَ هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ بِالصَّلوةِ فَقَالَ نَعَمْ قَالَ فَأَجِبْ ترجمہ:۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ آنحضرت کی خدمت میں ایک نابینا حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ ! مجھے کوئی ایسا آدمی میسر نہیں جو مجھے مسجد تک لے کر جایا کرے۔اس لئے مجھے اجازت مرحمت فرمائی جائے کہ میں اپنے گھر میں ہی نماز ادا کر لیا کروں۔چنانچہ حضور نے اجازت دے دی لیکن جب وہ اٹھ کر واپس جانے لگا تو حضور نے اسے بلایا اور دریافت فرمایا: