سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 483
کرو۔483 چنده 269 جماعت احمدیہ کا فرض ہے کہ جماعت کو ہلاکت سے بچانے کے چندہ دینے والے کیلئے سب سے بڑی جزاء اللہ تعالیٰ کی رضا ہے۔لئے ہر ممکن کوشش کرے۔296 جماعت احمدیہ کو آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرنے کی تلقین چندہ کے متعلق شرح کم کرنے کی جازت لینا۔370 472 کی جائے۔جماعت میں جراحی کا عمل۔396 402 خاندان خ جماعت کو سمجھنا چاہئے کہ ہمارا دائرہ اختیار کیا ہے۔اطاعت کہتے ہر خاندان کو اپنے بزرگوں کی تاریخ اکٹھا کرنے کی طرف متوجہ ہونا کس کو ہیں۔442 چاہئے۔جماعت احمدیہ ہی خدا کی وہ آخری جماعت ہے جس کے ساتھ اس خدا تعالیٰ 123 دنیا کی بقاوابستہ ہے۔جڑ 461 سارے علموں کا سر چشمہ خدا ہے۔95 خدا ایک زندہ ہستی ہے جس کا جماعت سے تعلق ہے۔141 ایک ایسا شخص جس کی جڑیں اکھڑ جائیں اس کی بقا کا زمانہ بہت اپنے خدا کی طرف حرکت کرو اور خدا کی طرف سفر اختیار کرو۔187 تھوڑا ہے۔چچ حوصلہ حوصلہ اپنے عمل سے پیدا کیا جاتا ہے۔345 اس دنیا کو آج دلائل سے بڑھ کر خدا والوں کی ضرورت ہے۔187 جو لوگ خدا سے تعلق رکھتے ہیں ان کے کام آسان ہو جایا کرتے ہیں۔191 154 خدا تعالیٰ کے بغیر کوئی برکت والی بات شروع ہو ہی نہیں سکتی۔وہ نقصان جس میں انسان بے اختیار ہو اس پر صبر کا نام حوصلہ ہے۔243 155 خدام الاحمدیہ حقوق اگر آپ اپنے حقوق اور فرائض سے واضح طور پر آگاہ ہوں تو کسی کو خدام الاحمدیہ تحریک جدید کے دفتر اول کی ذمہ داری۔80۔7۔6۔3 359 غلط فہمی اور نا اتفاقی کے بیج بونے کی جرات نہیں ہو سکتی۔تحریک جدید دفتر دوم خدام الاحمدیہ کی ذمہ داری۔ساری جماعت کو احمدیت کی روایات کے مطابق اپنے حقوق سے جو خدام الاحمدیہ کا زعیم ہے وہ بھی تو اپنے دائرے میں اور ایک بھی آگاہ ہونا چاہئے۔حقوق العباد کی آخری بنیادیں مذہب میں ہی ملتی ہیں۔1 40 عبادت ہی کے نتیجے میں بنی نوع انسان کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا ہوتی ہے۔41 محمد ود دائرے میں ایک مامور ہے۔خالق خالق کا اپنی تخلیق کے ساتھ گہرا رابطہ ہے۔439 138