سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 481
481 امراء کواپنے ماتحت عہدیداران کی تربیت کرنی چاہئے۔200 تقتل ہر اس موقع پر اختیار کی جاسکتا ہے جب خدا تعالیٰ کی طرف سب سے اچھی تربیت وہی ہوتی ہے جو انسان خود کرے۔265 سے دل میں ایک روحانی تحریک پیدا ہورہی ہو۔جتنا تربیت کا بلند معیار ہوگا اتناہی تبلیغ کا معیار از خود بلند ہوتا چلا تقتل سب سے پہلے نیتوں میں ہوتا ہے۔جائے گا۔344 352 تاریکی 268 تحریک جدید تنظیموں کو دفاتر کی تقسیم۔انسانی زندگی سجاوٹ تقوی سے ہوتی ہے۔جہالت اور تاریکی ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔1 تقوی تبلیغ 3 107 تبلیغ کا ایسا کام ہے جو نشے سے بڑھ کر طاقت رکھتا ہے۔93 عہدیداران تقویٰ کے معیار کو بڑھا کر سلسلے کے اموال خرچ کریں تبلیغ کے ذرائع۔تبلیغ وہی اثر دکھاتی ہے جو خد ا والے کی تبلیغ ہو۔تبلیغ بے تکی نہیں ہونی چاہیئے۔94 187 بے دردی اور بے حسی اور تقویٰ اکٹھے نہیں رہا کرتے۔37 تقوی خدا کی ذات سے پھوٹتا ہے۔ہم نے ساری دنیا میں تبلیغ کی ذمہ داریاں ادا کرنی ہیں۔ہر متقی کا کام ہے کہ تقویٰ کو عزت دے۔43 تنظیمیں 69 71 71 196-194 ہمیشہ یا درکھنا چاہئے کہ تمہارا خدا تقوی کو عزت دیتا ہے۔197 تقویٰ کی جڑیں جتنی گہری ہوں اتنا ہی زیادہ تقویٰ کا درخت 198 ذیلی تنظیمیں ماہانہ ایک اجلاس قیام نماز کے حوالہ سے کریں۔62 نشو ونما پاتا ہے۔ذیلی تنظیموں کو بھی جماعت کی انجمنوں کے ساتھ قدم ملا کر آگے اپنے تقویٰ کا معیار بڑھاتے ہوئے خدا پر انحصار کریں۔202 بڑھنا چاہئے۔تنظیموں کے سپر دتعمیر اخلاق کا کام۔29 99 تلاوت 151 ایسے گھروں میں جہاں واقفین زندگی ہیں وہاں تلاوت کے اس ظیمیں اپنے اپنے ہاں نگران ہوں اور بیدار ہوں۔پہلو پر بہت زور دینا چاہئے۔ذیلی تنظیموں کے نمائندے یا درکھیں خشک نصیحت بے کار چیز ہے۔تلاوت کی عادت ڈالنی چاہئے۔111 251 271 جہالت تبل جہالت اور تاریکی ایک ہی چیز کے دونام ہیں۔تبتل کا اصل مطلب ہے بدیوں سے نجات حاصل کرنا۔بدیوں جھوٹ سے تعلق توڑنا۔327 سب سے بڑا خرابی کا عنصر جھوٹ ہے۔نیتوں کا خلوص ہے جہاں سے تبتل کا مضمون شروع ہوتا ہے 332 کوئی قوم دنیا میں ترقی نہیں کر سکتی اگر اس کے اندر جھوٹ کی 151