سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 452 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 452

452 پیار دیا جاتا ہے ان کو اس بات کی کوڑی کی بھی پرواہ نہیں رہتی کہ یہ تو مجھ سے محبت کرنے والا تھا۔وہ اسی طرح جیسا کہ خدا کی آنکھ انہیں دیکھتی ہے انہیں ناراضگی سے دیکھتا ہے اور ان کے چھوڑ کے چلے جانے کی ادنیٰ بھی پر واہ نہیں کرتا۔پس تو حید کا یہ مضمون بالآخر تو کل پر منتج ہو جاتا ہے۔چنا نچہ قرآن کریم اس کے بعد فرماتا ہے فَإِنْ عَصَوكَ فَقُلْ إِنِّي بَرِيٌّ مِمَّا تَعْمَلُونَ تمہیں کیوں وہم ہو گیا ہے کہ میں تم پر رحمت سے جھکا ہوا تھا اس لئے کہ تم مجھے ذاتی طور پر پیارے لگتے ہو۔وہ تو اللہ کی خاطر تھا۔اگر تم خدا کی نافرمانی کرو گے یہاں عصول میں محمد رسول اللہ پیش نظر ہیں۔لیکن آپ کی نافرمانی خدا کی نافرمانی ہے۔اس کے سوا کوئی اور نافرمانی ممکن ہی نہیں کہ انسان حضرت محمد رسول اللہ سے نافرمانی کرے اور وہ آپ کی نافرمانی ہو، خدا کی نہ ہو۔اس مضمون کو قرآن بھی کھول چکا ہے بار بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی اس مضمون کو کھول چکے ہیں۔اس لئے اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ، مزید دلائل پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔ایک مسلمہ غیر مبدل حقیقت ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ کی نافرمانی لازماً خدا کی نافرمانی ہے اور اس کے سوا اس نافرمانی کو کوئی اور معنے نہیں پہنائے جاسکتے۔”فــان عـصـوك“ میں اس لئے مخاطب " تجھے کہ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کیا گیا ہے کہ آپ لوگوں پر جھک رہے تھے ، آپ لوگوں سے رحمت کا سلوک فرما رہے تھے، یہ گواہی دینا مقصود ہے کہ محمد رسول اللہ کی رافت ، آپ کی شفقت اللہ کی خاطر تھی ، ان کی خاطر نہیں تھی۔فرمایا پس جب یہ تیری نافرمانی کریں تو ان کی پہلی اطاعتوں کی، ان سے پہلے تعاون کی کچھ بھی پرواہ نہ کر۔تو کہہ دے میں تم سے بیزار ہوں۔تم یہ جوحرکتیں کر رہے ہو یہ میرے محبوب آقا کی مرضی کے خلاف ہیں اس لئے تم بھی میری مرضی کے خلاف ہو گئے ہو۔اگر ایسا کرو گے تو ان کے چھوڑ جانے کا تمہیں کوئی بھی غم نہیں ہونا چاہئے۔وَتَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ جب تو یہ کرے تو یاد رکھ اللہ جو عزیز ہے، اللہ جو رحیم ہے، جو غالب اور بزرگی والا ہے ، جو بار بار رحم فرمانے والا ہے اس پر تو کل رکھ۔وہ تجھے کبھی نہیں چھوڑے گا۔کیونکہ جس سفر کا آغاز توحید سے ہوا، جس کا بنی نوع انسان سے تعلقات کا آغاز اس طرح ہوا کہ خدا کی خاطر لوگوں کو ڈرا دھمکا کر دور کر دیا، جو قریب آئے ان کو بھی جب بھی وہ خدا سے دور ہوئے اپنی ذات سے دور کر دیا جب یہ سلوک ہو تو پھر تو کل علی اللہ کا ایک لازمی نتیجہ ہے۔اس کے سوا کوئی نتیجہ نکل ہی نہیں سکتا۔پس ہر وہ صاحب امر جو اس اسلوب پر چل پڑے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت کو اپنالے اس کوئی بھی خطرہ نہیں۔وہ جب سزا دے گا تو خدا کی خاطر دے گا ، جب تعلق بڑھائے گا تو خدا کی خاطر بڑھائے گا اور ان لوگوں کو اس تعلق کی پرواہ نہ کرنایا نہ کرنا اس کی نظر میں کوئی بھی حقیقت نہیں رکھے گا۔اور یہ وہ امارت ہے جو غیر متزلزل ہے کیونکہ اس کلیتہ اللہ تعالیٰ کی تائید حاصل ہوگی۔اور جیسا کہ میں نے پہلے