سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 445
445 تباہ ہونے والی جماعت نہیں رہی۔نسلاً بعد نسل ان کی خوبیاں تیرے قائم کردہ آسمانی نظام کی حفاظت کے لئے ہمیشہ قربانیاں پیش کرتی رہیں گی۔یہ وہ روح اور جذبہ ہے جس کی خاطر میں آپ کو یہ باتیں سمجھا تا ہوں اور ان کی آزمائش کا وقت آپ پر روزانہ آتا ہے اور اس وقت اگر آپ بیدار مغزی سے اپنے حالات کا جائزہ لیں۔یہ نہ دیکھیں کہ آپ کتنی دفعہ کامیاب ہوئے ہیں، کتنی دفعہ نا کام ہوئے ہیں تو اس وقت تک آپ کو یہ باتیں سننے کے باوجود بھی عمل کی توفیق نہیں مل سکتی۔روز مرہ اپنی زندگی سے حالات میں ان کو جاری کر کے دیکھیں۔عہد یدار کسی کے گھیرے میں نہ آئیں۔۔۔۔۔میں مثال دے رہا ہوں کہ یہ جو مضمون ہے کہ ایک صاحب اقتدار کولوگ گھیرے میں لے لیتے ہیں یہ ایک دائمی مضمون ہے۔تمام دنیا کی تاریخ پر اس کا برابر اطلاق ہوتا ہے اور اس تاریخ کا محض سیاست سے تعلق نہیں۔اقتصادیات سے بھی تعلق ہے اور دوسرے انسانی زندگی کے دائروں سے بھی تعلق ہے۔جہاں کسی آدمی کو بڑا ہوتے دیکھیں وہاں پرانے رشتے یاد آجاتے ہیں۔پرانے تعلقات کے حوالے سے انسان اس کے گردا کٹھا ایک جمگھٹ شروع دیتا ہے۔یہاں تک کہ ایک دفعہ مجھے یاد ہے مجھے اس پہ ہنسی بھی بہت آئی مگر واقعہ ہے جو انسانی فطرت کی کمزوری کو ظاہر کرنے کے لئے دلچسپ ہے۔ایک احمد نگر کی خاتون تھیں ان کے بیٹے نے ذکر کیا کہ ضیاء الحق صاحب کا یہ حال ہے دیکھو ذرا اخلاق۔میری ماں نے فون کیا تو فون ہی نہیں اٹھایا اس پر اور ہونے ہی نہیں دیا حالانکہ وہ بھی ارائیں ہم بھی ارائیں۔اب ارائیں کا رشتہ اور وہ بھی جالندھر کے نہ بھی جالندھر کے تھے یہ اتنا پکا ہو گیا کہ پہلے ساری عمر تو ضیاء کا خیال آیا ان کو ، وہ حکومت پر آیا تو آرا ئینت جاگ اٹھی اور اس خیال سے اس کے گردا کٹھے ہونے لگ نہیں گئے۔یہ گر دا کٹھے ہونے والے بعض دفعہ بہت ہی خطرناک نتیجے پیدا کرتے ہیں۔اور جماعت میں یہ نہیں ہونے دینا چاہئے کسی قیمت پر بھی۔اگر آپ کے گرد کچھ لوگوں نے ایسا گھیراؤ کر لیا جو آپ کو جماعت سے الگ کردیں ان معنوں میں کہ جماعت کے تمام تاثرات ان سے فلٹر ہوکر آپ تک پہنچیں۔اور براہ راست جماعت میں یہ اعتماد نہ رہے کہ آپ ان کے اسی طرح برابر ہیں اور ان کے خلاف اسی طرح بات سننے کے لئے تیار ہیں جیسے ان کی بات سنتے ہیں تو پھر آپ کی امارات اسی حد تک کمزور پڑ جائی گی۔اس لئے بہت ہی احتیاط کی ضرورت ہے۔کچھ لوگوں نے جنہوں نے خدمتیں کرنی ہیں انہوں نے اکٹھے ہونے ہی ہونا ہے۔لیکن اب یہ آپ کا کام ہے کس کو اکٹھے کرنا ہے۔کس کو اکٹھے اپنے گرد جمع نہیں ہونے دینا اور اگر ہوتے ہیں تو اس کو اپنے مرتبے اور مقام پر رکھیں۔ان کی مجال نہیں ہونی چاہئے کہ آپ کے ان معاملات میں دخل انداز ہوں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کے سپر د فرائض منصبی کے طور پر کئے ہیں۔ایسی صورتوں میں صرف یہ جماعت کے دوسرے افراد کا تعلق نہیں۔میں نے دیکھا ہے بعض لوگ بیویوں کے زیر اثر آجاتے ہیں۔اور فرائض ہیں امارت کے یا