سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 440
440 جہاں تک مومن کا تعلق ہے ان کی ایک ہی آواز بیان فرمائی ہے جو حضرت محمد رسول اللہ کی آواز کے تابع اٹھی اور یک جان ہو کر اٹھی ہے اور یہ آواز تھی سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ المصير (البقره:286) ہمیں تو اس کے سوا کچھ نہیں پتہ۔ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی۔جوسنا اس پر عمل کیا۔"سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ “ اور سننے اور اطاعت ہی میں اے رب ہمیں تیری غفران کی حرص ہے۔ہم جو سنتے ہیں اور اطاعت کرتے ہیں تو اس غرض سے نہیں کہ جس کی اطاعت کرتے ہیں اس سے کوئی فیض ہمیں پہنچے گایا اس کی محبت بذات خود ہمارا مطبع نظر ہے۔یہ سب کچھ تو اس لئے ہے کہ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا تا کہ تو ہم سے مغفرت کا سلوک فرمائے۔وَالَيْكَ الْمَصِير ہم نے آخر تیرے حضور پہنچنا ہے۔سارا حساب کتاب تیرے حضور پیش ہوگا۔تو سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا کا مضمون ایک وہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے خدا تعالیٰ کی جانب رخ سے ہمیں معلوم ہوا۔جب خدا کی طرف اپنا رخ فرمایا تو ہر وہ شخص جو اللہ کی طرف سے تھا اس کے متعلق یہ اعلان ہوا ہے سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ہمارا اور کوئی کام نہیں ہے۔لیکن جہاں جس کو مامور بنایا گیا ہے اس کے رخ سے دیکھیں تو اسے سمع اور اطاعت کی روح پیدا کرنے کے لئے اپنی جان کی قربانی کرنی پڑتی ہے۔اپنے آرام کو قربان کرنا پڑتا ہے۔وہ تمام نفسیاتی تقاضے پورے کرنے پڑتے ہیں جن کے نتیجے میں پھر یہ ایسی جماعت پیدا ہو۔تو ایک طرف سے مضمون کو دیکھا جائے تو مضمون بعض دفعہ بگڑ جاتے ہیں اور غلط استدلال پیدا ہو جاتے ہیں اور لوگ غلط استدلال کے نتیجے میں خود اپنی ہلاکت کا موجب بن جاتے ہیں۔اب یہی صورت حال اگر آج کل کے حالات پر جو جماعتوں میں رونما ہوتے رہتے ہیں چسپاں کر کے تفصیل سے دیکھیں تو آپ کے سامنے یہ مسئلہ خوب کھل کے آجائے گا۔ایک امیر ہے جو اپنی رحمت اور شفقت کے تقاضے پورے نہیں کرتا۔ذاتی تعلقات کو محض اس لئے نہیں بڑھا تا کہ خدا کی خاطر اب وہ مجبور ہے اور برداشت اور حوصلہ پیدا نہیں کرتا اور اس فکر میں نہیں رہتا کہ جس طرح بھی ممکن ہے مجھ سے محبت اور احسان کے رشتوں میں یہ لوگ باندھے جائیں۔وہ امیر اپنی جماعت میں ویسی اطاعت کے نمونے نہیں دیکھ سکتا۔ناممکن ہے۔بلکہ بسا اوقات وہاں ٹھوکر کے واقعات کثرت سے دکھائی دیں گے۔چھوٹی سی بات ہوئی اور لوگ ناراض ہو کے بھاگ گئے۔امیر سے نہیں بھاگے اپنی عاقبت سے بھاگ گئے۔اپنی آخرت تباہ کر لی۔لیکن اس صورت میں دونوں یکساں ذمہ دار نہیں ہیں تو کم سے کم کچھ نہ کچھ ذمہ داری دونوں پر عائد ہوتی ہے۔برابر کا لفظ کہنا مشکل ہے اللہ بہتر جانتا ہے۔بعض دفعہ ایک ذمہ داری کسی پر کم کسی پر زیادہ مگر ذمہ دار دونوں ہیں اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ان لوگوں کی بدنصیبی ہے جو ایسے امیر کی امارت میں ہیں جو ان سے رحمت اور شفقت کا سلوک نہیں کرتا۔اور اس امیر کی بھی بدنصیبی ہے جو کرتا بھی ہو تو کچھ خودسروں کا امیر بنایا گیا ہے کیونکہ بعض دفعہ یہ امیر کے