سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 439
439 اطاعت بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن کا ہی ایک عکس ہے۔تو یہ آیت کریمہ ہمیں اس طرف بھی متوجہ کر رہی ہے کہ ہر وہ شخص جو مامور ہے کسی پہلو سے خواہ محدود دائرے میں ہو، ایک زعیم بھی جو انصاراللہ کا زعیم ہے وہ بھی محدود دائرے میں ایک مامور ہے، ایک زعیم بھی جو خدام الاحمدیہ کا زعیم ہے وہ بھی تو اپنے دائرے میں اور محدود دائرے میں ایک مامور ہے۔تو ہر شخص جس کا حکم مانا جائے اسے مامور کہا جاتا ہے یعنی اس کی بات مانی جائے گی۔ان معنوں میں نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کوئی منصب ماموریت عطا فرمایا ہے جو انبیاء کو دیا جاتا ہے، یہ الگ مضمون ہے۔مگر مامور کا عام معنی یہی ہے کہ اپنے دائرے میں صاحب اختیار ہو، صاحب امر ہو۔اس پہلو سے خواہ چھوٹا ہو یا بڑا ہوا سے یا درکھنا ہوگا کہ جن لوگوں پر مامور ہے ان کے دل جیتنے میں لازماً محنت کرنی ہوگی اور ان کے طبعی فطری تقاضے پورے کرنے ہوں گے۔پس وہ امیر جو امیر بن کر یہ اہم اور بنیادی نکتہ نظر انداز کر دیتا ہے وہ بے وقوف بھی ہوگا اور ایک قسم کا اس میں تکبر بھی پایا جائے گا۔بیوقوف اس لئے کہ جو مرکزی نکتہ قرآن کریم نے بار بار سمجھایا جس کے بغیر امارت مکمل ہو ہی نہیں سکتی اسے نظر انداز کر بیٹھا ہے۔اور تکبر ان معنوں میں کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق قرآن یہ فرماتا ہے کہ اگر یہ صفات تجھ میں نہ ہوتیں تو انہوں نے بھاگ جانا تھا، اپنے متعلق وہ کیسے سوچ سکتا ہے کہ مجھ میں بھی نہ ہوں تو فرق کوئی نہیں پڑتا انہوں نے مانی ہی ماننی ہے۔اگر وہ مانتے ہیں تو پھر تمہاری وجہ سے نہیں بلکہ عمومی نظام جماعت کی برکت سے مانتے ہیں اور وہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر مانتے ہیں۔وہ دہرے ثواب کماتے ہیں اور تم مجرم بن جاتے ہو۔کسی عہدے پر فائز ہونا معمولی امر نہیں اس کے گہرے تقاضے ہیں جنہیں پورا کرنا ضروری ہے پس کسی امارت پر فائز ہونا کوئی معمولی امر نہیں ہے، اس کے بہت گہرے تقاضے ہیں ، انہیں لازماً پورا کرنا ہوگا۔مگر جہاں تک نافرمانی والے کا تعلق ہے اس کا یہ عذر کبھی قبول نہیں ہوسکتا کہ چونکہ اس نے مجھے سے حسن سلوک نہیں کیا تھا اس لئے میں نافرمانی کا حق رکھتا ہوں۔یہ بات بھی یا درکھیں۔قرآن کریم نے ان کو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اگر سختی کی وجہ سے دور ہٹے ہوں ہرگز یہ حق تسلیم نہیں کیا کہ ان کو ہٹنے کا حق تھا۔ان کی ایک نفسیاتی کمزوری بیان فرمائی ہے۔ورنہ جو اطاعت کا اعلیٰ حق ہے اس میں کسی شخص کی ذاتی کمزوری یا ذاتی صفات کا کوئی بھی دخل نہیں ہونا چاہئے۔اطاعت کے زاویے سے دیکھیں یعنی مطیع کے زاویے سے دیکھیں تو پھر یہ مضمون یوں نکلے گا کہ مطیع کو اگر اس کا مطاع یعنی جس کو امر کا اختیار دیا گیا ہے باوجود اس کے کہ اس کے ساتھ حسن سلوک نہیں کرتا اپنے دائرہ اختیار میں حکم دیتا ہے تو مطیع کا فرض ہے کہ لازما قبول کرے۔اور یہ عذر نہیں رکھے کہ چونکہ اس نے مجھ سے حسن سلوک نہیں کیا اس لئے میں حق رکھتا ہوں کہ اس کی اطاعت سے باہر چلا جاؤں۔یہ حق قرآن کریم نے کہیں بھی کسی کو نہیں دیا۔