سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 437
437 $1996 قائدین اور زعماء کو اطاعت کا اپنے منصب کے لحاظ سے ایک حق حاصل ہو گیا ہے اور اس میں ان کی ذات کا کوئی دخل نہیں خطبہ جمعہ 14 جون 1996 ء) " گزشتہ خطبات میں جرمنی کے سفر کے دوران بھی اور بعد ازاں بھی میں نے جماعت کو امارت کی عزت اور احترام کی طرف توجہ دلائی اور جماعت کو نصیحت کی کہ اپنی اطاعت میں محبت اور خلوص کا رنگ پیدا کریں کیونکہ یہی کچی اور حقیقی اطاعت ہے جو انسان کو ابتلاؤں سے بچاتی ہے۔اگر محض میکانیکی یعنی میکینیکل اطاعت ہو تو ایسی اطاعت بعض دفعہ ٹھوکر کے مقام پر انسان کو سہارا نہیں دے سکتی اور معمولی عذر پر بھی انسان اپنی اطاعت کا تعلق توڑ کر خودسری کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔یعنی جہاں محبت اور ادب کے رشتے ہوں وہاں یہ دونوں رشتے اطاعت کی حفاظت کرتے ہیں اور ان کے اندر ایک وارفتگی سی پیدا کر دیتے ہیں ، ایک ایسا رجمان جس کے بعد انسان اطاعت کی سختیوں کو برداشت کرنے کا اہل ہو جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ماں کو جو تربیت میں مرتبہ اور مقام حاصل ہے اتنا کسی اور رشتے کو نہیں کیونکہ ماں کی سختیاں بسا اوقات رد عمل کے بغیر بچہ جھیلتا ہے۔اور جہاں ردعمل دکھاتا ہے وہاں ماں کا کوئی قصور ہوا کرتا ہے۔وہ ماں جو فطری تقاضے پورے کرتی ہے، بچوں سے پیارا اور محبت کے تعلق قائم رکھتے ہوئے ان کی اصلاح کا خیال رکھتی ہے اس ماں کے بچے تختی کے وقت بھی دکھ تو محسوس کریں گے، بغاوت نہیں کریں گے۔پس جہاں جماعت کو میں نے توجہ دلائی ہے وہاں اب بھی امراء کونصیحت کرنا چاہتا ہوں بلکہ ہر جماعتی عہد یدار کو کہ اس نے اگر خدمت لینی ہے اور اطاعت کے اعلیٰ نمونے دیکھنے ہیں تو خود اس کے لئے لازم ہے کہ اول وہ اطاعت کا اعلیٰ نمونہ بنے۔یعنی اپنے سے بالا پر اس کی نظر رہے اور وہ بہترین اطاعت کا ایک نمونہ بن جائے۔اور دوسرے جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اطاعت کا حکم ہے آپ کے لئے اگر ہے تو اس کے تابع ہی ہے مگر اس کے ہم مرتبہ نہیں ہوسکتا۔گو منطقی نقطہ نگاہ سے ہم کہہ دیتے ہیں کہ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں آپ کے مقرر کردہ امراء کی اور غلاموں کی اطاعت بھی داخل فرما دی گئی ہے۔اس لئے ان سب امراء کو جو نظام جماعت کے نمائندہ ہیں یا صدر ہیں یا قائدین ہیں یا زعماء ہیں بالجنہ کی صدرات ہیں ان سب کو اطاعت کا اپنے منصب کے لحاظ سے ایک حق حاصل ہو گیا ہے اور اس