سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 380 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 380

380 اہل علم نے ذکر کے متعلق اپنے تصور پیش کئے ہیں یا صوفیاء اولیاء اللہ نے جن کو ذکر کے تجارب ہوئے انہوں نے اپنے تجربہ کی رو سے ذکر کا ایک مضمون سمجھا ہے۔اہل لغت نے ذکر کے کیا معنی لئے کیا کیا معانی سمجھے یہ باتیں میں ابتداء آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔پھر انشاء اللہ تعالیٰ آیات قرآنی اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے حوالے سے ذکر کے مضمون کو واضح کرتا چلا جاؤں گا۔اہل لغت لکھتے ہیں ذَكَرَ الشَّيْءَ ذِكْرًا وَ ذكرًا وَ ذِكْرًا وَتَذْكَارًا ، حَفِظَهُ یعنی ذَكَرَ کا ایک مطلب ہے کسی چیز کو یاد کرنایا گھوٹہ لگا کر حفظ کرتے ہیں۔اس کے لئے عرب لفظ ذكر استعمال کرتے ہیں۔اس نے ایک چیز کو یاد کر لیا جس طرح قرآن کریم یاد کیا جاتا ہے جس طرح بچے کتابیں یاد کرتے ہیں۔تو ذکر اللہ اس حوالے سے کیا معنی رکھے گا۔اس حوالے سے ذکر اللہ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کو اس طرح بار بار ذہن نشین کرتے چلے جاؤ کہ جہاں بھی ان سے ملتا جلتا مضمون ہو از خود وہ یاد آ جائیں۔جو حافظ قرآن ہوں جن کو اچھی طرح قرآن کریم حفظ ہو جب بھی کوئی آیت سے ملتا جلتا مضمون سامنے آتا ہے اچانک وہ آیت ذہن میں ابھر آتی ہے یہ حفظ ہے تو اللہ کو حفظ کرنے کا کیا مطلب ہے۔اللہ کو حفظ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات حسنہ پر ایسا غور ہو کہ موقع اور محل کے مطابق جس صفت کا کسی ایسی چیز سے تعلق ہو کہ آپ مشاہدہ کر رہے ہوں یا سن رہے ہیں یا دیکھ رہے ہیں یا محسوس کر رہے ہیں۔اچانک اللہ تعالیٰ کی صفت کا وہ پہلو آپ کے سامنے ابھر آئے۔ان معنوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ آپ نے اللہ کا ذکر کیا ہے۔پھر ذکر کا مطلب ہے جَرَى الشَّى عَلى لِسَانِكَ یعنی ذکر اس بات کو کہتے ہیں جو زبان پر جاری ہو۔ذکر اللہ کا مطلب یہ ہے کہ صرف یاد آ جانا کافی نہیں بلکہ اس یاد کو بیان کرنا ضروری ہے اور جگہ جگہ آپ کی مجالس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر چلنا چاہئے تبھی وہ ذکر بنے گا۔یعنی خاموش ذکر بھی ذکر ہی ہے لیکن زبان سے جاری ہونا بھی ذکر کے مضمون میں داخل ہے۔پس اللہ اگر ذہن میں ہے اللہ اگر دل میں ہے تو اس کا زبان پر جاری ہونا ایک طبعی اور ضروری امر ہے۔پس اپنی مجالس میں اپنی روز مرہ کی گفتگو میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ضرور کیا کریں اور یہ وہ ذکر ہے جو نماز کے باہر کا ذکر ہے۔کیونکہ نماز میں تو آپ جاتے ہی خدا تعالیٰ سے باتیں کرنے کے لئے ہیں۔اپنے گھروں میں ہر وقت مختلف مواقع پر، سیر و تفریح میں یا گھر میں بیٹھے ہوئے یا دفتر یا دنیا کے کاموں میں یا تجارتی گفتگو میں یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ اگر اللہ آپ کو یاد ہو تو زندگی کے کسی موقعے میں ایسا اتفاق ہو کہ خدا سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو یعنی اس موقع پر خدا کی کوئی خاص صفت یاد نہ آسکے، ہو ہی نہیں سکتا اس لئے ساری زندگی ذکر سے بھری ہوئی ہے۔اگر آپ محسوس کریں اور اس حوالے سے تلاش کیا کریں اور تلاش تبھی آپ کر سکیں گے اگر ذہن میں موجود ہے۔