سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 379 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 379

379 ہو جائے گا۔ایک نئی شان عطا ہو جائے گی اور اس کے نتیجے میں طوبٰی لَهُمْ ایک ایسا مرتبہ عطا ہوگا جو سب دوسرے مرتبوں سے ممتاز ہے۔ایک قابلِ رشک حالت عطا ہو جائے گی۔وَحُسْنُ مَابِ اور تم واپس جس ٹھکانے کی طرف لوٹو گے وہ بہت ہی حسین ٹھکانہ ہے۔بہت ہی خوب صورت مقام ہے۔یعنی مرنے کے بعد جس کی طرف تمہیں لوٹا یا جائے گا۔ذکر اللہ کو انسانی زندگی کے تمام اعمال میں ایک غیر معمولی فوقیت حاصل ہے تو ذکر اللہ کو ایک غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ذکر اللہ کو ایک انسانی زندگی میں تمام اعمالِ صالحہ میں ایک غیر معمولی فوقیت حاصل ہے اور اسی مضمون کو قرآن کریم ایک دوسرے رنگ میں بیان فرماتا ہے۔عبادت کا ذکر کرنے کے بعد فرماتا ہے کہ وَلَذِكْرُ اللهِ اَكْبَرُ اللہ کا ذکر اَكْبَرُ ہے۔حالانکہ عبادت بھی تو ذکر ہے اور یہ خیال کر لینا کہ عبادت کم تر ہے اور عبادت کے باہر ذکر زیادہ ہے۔یہ اس کا مطلب درست نہیں ہے۔اس کے بہت سے اور بھی معنی ممکن ہیں لیکن اس موقع پر میں یہ سمجھنا چاہتا ہوں۔کہ وَلَذِكْرُ اللهِ اَكْبَر کہہ کے یاد کرایا کہ خالی عبادت کا ظاہر کچھ حیثیت نہیں رکھتا۔عبادت کرو اور ظاہری طور پر تمام ارکان ادا کرو اور عبادت کا خیال رکھو۔تمام الفاظ جو پڑھے جاتے ہیں وہ پڑھے جائیں ، تمام دعائیں جو کی جاتی ہیں کی جائیں لیکن اگر ذکر اللہ اس پر غالب نہ رہا تو عبادت میں وہ شان پیدا نہ ہوگی۔پس جب آپ سورۃ فاتحہ پڑھتے ہیں تو اس طرح بھی مضمون کو ادا کر سکتے ہیں۔جس طرح ایک قاری کسی مضمون کو پڑھ رہا ہے اور اس کے ذہن میں وہ مطلب آ رہا ہے ساتھ ساتھ اور اس طرح بھی ادا کر سکتے ہیں کہ اس مطلب کے ساتھ ساتھ کہ دلوں میں اللہ تعالیٰ کی محبت کی لہریں دوڑنے لگیں۔دل ان لہروں کے نتیجہ میں یا جھومنے لگیں یا بعض دفعہ تھر تھرانے لگتے ہیں خدا کے رعب سے اور خدا کے عشق سے۔تو اگر دلوں میں تموج پیدا نہیں ہوتا اور آپ نماز پڑھتے چلے جاتے ہیں۔تو وہ نماز یقینا نسبتا کم درجہ کی ہے لیکن وہ نماز جس پر ذکر اللہ غالب آجائے وہی اکبر ہے وہ سب سے بڑی عبادت ہے۔پس اور معنی ہیں لیکن یہ معانی لازم ہیں اس کے ساتھ اس لئے ہرگز یہ مراد نہیں ہے کہ عبادت جو با قاعدہ کی جاتی ہے اس کو چھوڑ دو اس سے بہتر باہر کا ذکر ہے۔اس عبادت کے اندر ذکر الہی نہایت ضروری اس عبادت کو زندہ کرنے کے لئے ضروری ہے۔لغت میں ذکر کے معنی اب ذکر کے تعلق میں چند اور باتیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں پہلے تو میں ابتدائی طور پر جو مختلف