سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 366
366 سال جب میں نے جاپان کے متعلق اعلان کیا تھا تو سوئٹزرلینڈ کی طرف سے احتجاج آئے تھے کہ نہیں ہم سمجھتے ہیں کہ ہم آگے ہیں لیکن تحقیق کر کے یہی پتا چلا تھا کہ سوئٹزر لینڈ پیچھے رہ گیا ہے تو اس دفعہ انہوں نے کچھ زیادہ ہی غیرت دکھائی ہے اور زور لگا کر جاپان کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔جاپان کے اوپر اور بھی بہت سارے چندوں کی ذمہ داریاں ہیں جو سوئٹزرلینڈ پر نہیں ہیں۔ہر چندے میں وہ اپنی تعداد کے لحاظ سے زیادہ قربانی کرنے والے ہیں۔اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ اس موقع پر ان کو چشم پوشی سے کام لینا چاہئے اور سوئٹزرلینڈ کو بے شک آگے رہنے دیں کیونکہ اس دفعہ مسجد کی تعمیر کا جو چندہ ان پر ڈالا گیا ہے وہ بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔اگر انہوں نے سوئٹزر لینڈ کو پیچھے چھوڑنے کی خاطر وہاں توفیق سے بڑھ کر حصہ لیا تو دوسرے چندے متاثر ہو جائیں گے۔اس لئے قربانی کا جو معیار اب ہے اسے بے شک اتنا ہی قائم رکھیں لیکن مسجد کی تعمیر کے لئے وہ خصوصیت سے توجہ دیں۔وہاں زمین سب سے مہنگی ہوتی ہے لیکن اللہ کے فضل کے ساتھ ٹوکیو کے پاس ایک بہت اچھی زمین مل گئی ہے اور ان کو فوری طور پر جتنا قرض درکار تھا وہ مہیا کر دیا گیا ہے۔امید ہے خدا کے فضل سے وہ سودا ہو چکا ہوگا۔بقیہ تین سال انہوں نے قرض بھی واپس کرنا ہے اور مسجد اور مشن کی عمارت بھی خود بنانی ہے۔بیلجیئم کی جماعت بھی اللہ کے فضل سے تیز قدموں سے آگے بڑھ رہی ہے۔تبلیغ کے میدان میں بھی جیسا کہ میں نے پہلے اعلان کیا تھا ماشاء اللہ انہوں نے توقع سے بڑھ کر چابک دستی دکھائی ہے اور ہوشیاری سے کام کیا ہے، دعاؤں سے کام لیا ہے اور خدا نے پھل بھی خوب دیئے۔مالی لحاظ سے بھی یہ جماعت ترقی کر رہی ہے۔ان کی اوسط 129 فی کس ہے اور پیجیم کے حالات کے لحاظ سے یہ بہت اچھی اوسط ہے۔ان کا تیسرا نمبر ہے۔امریکہ کی اوسط 68 پاؤنڈ بنتی ہے اور ان کا نمبر چوتھا ہے۔فرانس کی اوسط 60 پاؤنڈ ہے اور ان کا پانچواں نمبر ہے۔ان کے علاوہ جو چھوٹی چھوٹی جماعتیں ہیں جن میں چندہ دہندگان تھوڑے ہیں اس لئے ان کو شامل نہیں کیا گیا۔ان میں سے تھائی لینڈ ، فلسطین، کوریا، گوئٹے مالا، لیتھوانیہ کی اوسطیں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت بہتر ہیں۔افریقہ کی قربانیاں موازنے کی فہرستوں میں اب تک آپ نے شاید سوچا ہو کہ افریقہ کا نام نہیں آیا۔افریقہ میں غربت بہت زیادہ ہے اور بہت سے ممالک ایسے ہیں جو شدید اقتصادی بدحالی کا شکار ہیں لیکن اخلاص میں کمی نہیں ہے۔اگر ان کا نام ان فہرستوں میں نہیں آیا جن فہرستوں میں بڑے بڑے چندے دینے والے ملکوں کا ذکر ہوا ہے تو اس میں افریقہ کا قصور نہیں لیکن مالی قربانی کی طرف توجہ کا جہاں تک تعلق ہے اس کا اندازہ آپ کو اس بات سے ہو جائے گا کہ اپنی قربانی میں فی صد اضافہ کرنے کے لحاظ سے دنیا بھر میں سب سے آگے زیمبیا ہے جو افریقہ کا ملک ہے اور تیسرے نمبر پر غانا ہے، یہ بھی افریقہ کا ملک ہے، پھر ساتویں نمبر پر گیمبیا آتا ہے اور