سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 24 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 24

24 حملے پر حملہ کرتے چلے جاتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اور امہات المومنین پر نہایت خوفناک گند اُچھالتے تھے اور مقابل پر مسلمان کیا کرتا تھا اُٹھتا تھا اور چاقو مار دیتا تھا۔اس طرح دنیا میں اور زیادہ ذلیل ہوتا تھا۔لوگ کہتے تھے ان کے پاس کوئی دفاع نہیں ہے۔سوائے چاقو کے اور کچھ نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام آئے اور مقابلے کے سارے رنگ بدل دیئے۔آپ نے فرمایا میں بھی حملہ کروں گا اور زیادہ شان کے ساتھ حملہ کروں گا اور خدا کے شیروں کی طرح تم پر جھپٹوں گا۔تم میرے آقا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر حملے کی جرات کرتے ہو؟ کس طرح بیچ کر جاؤ گے مجھ سے پھر ایک اور عجیب منظر ہمارے سامنے آتا ہے۔اسلام کا یہ عظیم الشان پہلوان جَرِيٌّ اللهِ فِى حُلَلِ الْأَنْبِيَاءِ تو اس شان کے ساتھ اسلام کے اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور امہات المومنین کے انتقام کے رہا تھا۔اور پیچھے ایک شور پڑ گیا ان مسلمانوں کی طرف سے جن کے دفاع میں یہ پہلو ان لڑ رہا تھا۔انہوں نے کہا کہ تم عیسی پر حملے کرتے ہو۔تم فلاں نبی کی بے عزتی کرتے ہو؟ تمہارا کوئی تعلق نہیں اسلام کے ساتھ۔یعنی اسلام کے لئے لڑنے والا اور اس شان کے ساتھ جنگ کو نئے اسلوب عطا کرنے والا۔اس کی پشت محفوظ نہیں تھی۔پیچھے سے اس پر حملے ہورہے تھے وہ مڑتا تھا اور چو کبھی لڑائی لڑتا تھا۔ان کو بھی جواب دیتا تھا ، سامنے والوں کو بھی جواب دیتا تھا۔دائیں بھی لڑتا تھا اور بائیں بھی لڑتا تھا ساری عمر حضرت مسیح موعود علیہ السلام، اسلام کے مجاہد کے طور پر زندہ رہے اور اسی حالت میں آپ نے جان دی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اسلوب جہادکو اختیار کریں پس اس آقا کا نام لیتے ہیں تو اس کے رنگ بھی تو سیکھیں۔بڑھا یا کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو مجاہدے کی راہ میں حائل ہو سکے۔نبی آخری دم تک لڑتا ہے اور آخری دم تک یہ پیغام دیتا ہے اپنے ماننے والوں کو کہ اسی اسلوب پر چلو گے تو میرے ساتھ وفا کے وعدے پورے ہوں گے ورنہ پورے نہیں ہوں گے۔اس لئے تمام انصار کو یہ سوچ لینا چاہئے کہ وہ مجاہدین اسلام ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمارے لئے جہاد کے جو طریق بیان فرما دیئے ہیں اور ہمارے سامنے کھول دیئے ہیں ان کو چھوڑ کر ہم نے نہیں لڑنا ان کے دائروں کے اندر رہ کر لڑنا ہے پھر آپ دیکھیں فتح و نصرت لازما آپ کے قدم چومے گی اور اس کے سوا آپ کے مقدر میں کوئی اور چیز نہ ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ بظاہر یہ چھوٹے چھوٹے گر ہی وہاں دورے کے دوران میرے کام آئے ہیں جہاں بھی غیروں کے ساتھ اسلام کی طرف سے مقابلے ہوئے ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا سکھایا ہوافنِ جنگ ہی تھا جو ہمیشہ میرے کام آیا۔پس میں اپنے تجربے کے بعد آپ کو بتا رہا ہوں کہ دنیا میں کسی طرف سے بھی حملہ ہو جوفنون حرب