سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 22 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 22

22 22 محبت کے نام پر مظالم کی ایک ایسی تعلیم دی اور مظالم کی تعلیم پر ایسا عمل کر کے دکھایا کہ ساری دنیا کی بہیمانہ تاریخ بھی اس سے شرما جاتی ہے لیکن ہم آپ کے مذہب کا دفاع کرتے ہیں ہم کہتے ہیں خبردار ! عیسائیت کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں بولنا یہ سچا مذ ہب تھا۔اللہ کا مذہب تھا۔عیسائیت کا ایک ذرہ بھی اس میں قصور نہیں۔ان ظالم لوگوں کا قصور ہے جن کو حق نہیں تھا عیسائیت کی طرف منسوب ہونے کا لیکن وہ منسوب ہوئے۔میں نے کہا اسلامی اخلاق اور آپ کے اخلاق میں یہ فرق ہے ہم آپ کی زیادتی کے باوجود آپ کے دل مجروح نہیں کرنا چاہئے۔جب ان کو یہ بات بتائی جاتی تھی تو ان کے چہروں کی کیفیت بالکل مختلف ہو جاتی تھی شکست کا جو احساس تھا وہ طمانیت میں بدل جاتا تھا وہ سمجھ جاتے تھے کہ ہاں عیسائیت پر کوئی حملہ نہیں ہوالیکن ساتھ ہی اسلام کی اعلیٰ اخلاقی تعلیم کی برتری بھی از خود ان کے دلوں پر ظاہر ہو جاتی تھی۔مخالف کے جواب کا ایک طریق میں یہ واقعہ آپ کے سامنے اس لئے کھول کر رکھ رہا ہوں کہ طریق تبلیغ میں یہ ساری چیزیں ضروری ہیں۔بعض دفعہ غیرت کا تقاضا ہوتا ہے کہ جوابی حملہ کیا جائے اگر آپ محض کمز ور دفاع پر یا یک طرفہ دفاع پر رہیں تو آپ اپنے مقصد میں ہرگز کامیاب نہیں ہو سکتے۔یہی طریق ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں سکھایا۔جب عیسائیوں نے اسلام پر اور سرور دو عالم حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک پر حملے کئے تو آپ نے ان لوگوں کو اچھی طرح لتاڑا۔غیرت کا تقاضا تھا کہ سخت جواب دیا جائے اور ان کو بتایا جائے کہ ناپاک حملوں کے نتیجے میں کس طرح دل دکھتے ہیں۔اور یہ بتایا جائے کہ تمہاری مثال تو ایسی ہے کہ ”چھاج بولے سو بولے چھلنی کیا بولے“ تم تو اسلام کی چھاج کے مقابل پر چھلنی کی طرح ہو۔تم پر تمہاری اپنی زبان میں اتنے خوفناک الزام عائد کئے جا سکتے ہیں کہ جب تم ان کو پڑھو گے اور تمہارا دل زخمی ہو گا تب تمہیں سمجھ آئے گی کہ مصطفے کے غلاموں کا تم نے کس طرح دل دکھایا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسلوب جہاد چنانچه اسی طرز جہاد نے ہمیں روشنی عطا فرمائی۔اب دیکھیں! آپ کے فن جہاد کا کتنا حیرت انگیز کمال ہے۔عیسائیوں کے جواب میں آپ حضرت عیسی پر تو حملہ کر نہیں سکتے تھے۔حضرت مسیح کو تو ایک پاک رسول سمجھتے تھے اس لئے ایسا عمدہ اور پیارا طریق اختیار کیا کہ آپ بار ہا مسیح" کو بچاتے رہے اور مسیح کی پاکیزگی بھی بیان فرماتے رہے۔لیکن ساتھ ہی یہ بھی بیان فرمایا کہ وہ مسیح جس پر ہم ایمان لاتے ہیں وہ تو