سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 315
315 سے یا اُس کے کسی نمائندے کی طرف سے چٹھی جائے تو طبیعت میں شرمندگی پیدا ہو اور زیادہ توجہ کرے۔تو اس تمام جائزے کے بعد ایک نیا لائحہ عمل اُن کے لئے تیار ہو گا۔اس لائحہ عمل کی روشنی میں بھاری امید ہے کہ کچھ اور لوگ جو پہلے اثر کو قبول نہیں کرتے تھے۔نیک اثر کو قبول کریں گے، پاک تبدیلیاں دکھائیں گے، یہ اتنا وسیع کام ہے اور اتنی مسلسل محنت چاہتا ہے کہ کوئی سیکرٹری تصور کر لے کہ میرا کام ہے کیا ؟ مجھ پر کیا ذمہ داری ہے؟ تو اگر وہ دعا پر ایمان نہ رکھتا ہو، اللہ کی مدد پر تو کل نہ کرتا ہو تو وہ سمجھے گا کہ میں اس لائق ہی نہیں کہ میں اس کام کو سرانجام دے سکوں۔وہ سمجھے گا کہ میرا دیانت دارانہ فرض یہ ہے کہ استعفیٰ دے دوں، یہ کام میرے بس سے باہر ہے۔لیکن یاد رکھیں کہ کام آپ کے بس سے باہر نہیں ہے۔وہی اصول جو میں نے بیان کیا ہے لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا وہ ہمیں یہ پیغام دے رہا ہے کہ اے جماعت احمد یہ ! تمام دنیا کے انسانوں کو تم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں لا ڈالنا ہے اور یہ کام تمہارے بس میں ہے اگر تمہارے بس میں نہ ہوتا تو میں تمہارے سپرد نہ کرتا۔تم آخرین کی وہ جماعت ہو جن سے تمام دنیا کی امیدیں وابستہ کر دی گئی ہیں۔میں جانتا ہوں کہ تم میں کیا صلاحیتیں ہیں؟ اور اگر تم اُن صلاحیتوں کو بروئے کار لا ؤ، دعاؤں سے کام لو، حکمت اور تدبیر سے کام لو تو یہ کام تمہارے بس میں ہے۔اس یقین کے ساتھ تم نے آگے قدم بڑھانا ہے اور اس یقین کے نتیجے میں جو ذمہ داریاں ہم پر عائد ہوتی ہیں جیسا کہ میں بیان کر رہا ہوں۔حکمت کے ساتھ ، آنکھیں کھول کر، ایک ایک قدم پھونک پھونک کر رکھتے ہوئے اُن ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی کوشش کرنا ہے اور جیسا کہ میں نے بار بار بیان کیا ہے۔دعا کے بغیر حقیقت میں کسی قدم میں بھی برکت نہیں پڑسکتی۔پس لازما ساتھ ساتھ ہر عہدیدار کو اپنے لئے بھی دعا کرنا ہوگی اور جن نائبین سے اُس نے کام لینا ہے اُن کے لئے بھی دعائیں کرنی ہوں گی۔شعبه اصلاح وارشاد و دعوت الی اللہ کو زریں نصائح اب دیکھئے کہ ایک شعبہ ہے اصلاح وارشاد کا یا دعوت الی اللہ کا۔اُس شعبے میں بہت کام کی ضرورت ہے اور اب تک بھاری تعدا د احباب جماعت جرمنی کی اور خواتین جرمنی کی ایسی ہے جن کو دعوت الی اللہ کا سلیقہ ہی معلوم نہیں۔ان کو پتا ہی نہیں کہ دعوت الی اللہ کس طرح کرتے ہیں؟ اور اُس کے لئے کن کن چیزوں کی ضرورت ہے؟ دعوت الی اللہ کے لئے جو شخصیت میں جذب چاہئے، قوت جاذ بہ چاہئے ، دعوت الی اللہ کے لئے شخصیت میں جو اللہ تعالیٰ کے قرب کی علامتیں ہونی چاہئیں۔دعوت الی اللہ کے لئے بات بیان کرنے کا جو سلیقہ چاہئے ، دعوت الی اللہ کے لئے اس شخص کی زبان سے واقفیت جس کو آپ دعوت کر رہے ہیں، اُس کی جو ضرورت ہے۔دعوت الی اللہ کے لئے جس صبر کی ضرورت ہے، جس حکمت کی ضرورت ہے، یہ ایک بہت وسیع