سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 289
289 کئے جائیں تدبیریں سوچی جائیں ان پر دائما عمل کرنے کے منصوبے بنائے جائیں اور پھر وقتا فوقتا جائزہ لینے کا انتظام بنایا اور نافذ کیا جائے۔یہ سارے انتظامات جن کا میں ذکر کر رہا ہوں ان کا خلاصہ وہی ہے جو میں بیان کر چکا ہوں کہ قرب الہی کی کوشش کی جائے اور نمازوں کو قائم کیا جائے اور نمازوں کو قائم کرنے میں جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا نماز میں ایسی لذت پیدا کرنا ضروری ہے یا نماز سے ایسا تعلق باندھنا ضروری ہے کہ دیگر تعلقات اس کے مقابل پر پیچ ہو جائیں۔یہ اعلیٰ مقصد جب تک حاصل نہیں ہوتا نمازی محفوظ نہیں ہے کیونکہ اس کی نمازیں محفوظ نہیں ہیں اور یہ اعلیٰ مقصد حاصل کرنے میں بڑی جدو جہد کی ضرورت پڑتی ہے۔اس ضمن میں جو خطرات مغرب کی دنیا میں ہیں وہ مشرقی دنیا سے بہت ہی زیادہ بھیا نک ہیں کیونکہ دو طرح کے فتنے یہاں بے دھڑک گھر گھر میں داخل ہو چکے ہیں اور ہر گھر میں وہ کھیل کھیل رہے ہیں اور کوئی ان کو روکنے والا نہیں ہے۔مغربی آزادی کے تصور کا ایک خطر ناک فتنہ ان فتنوں میں سے ایک مغربی آزادی کا تصور ہے۔ایسا غیر متوازن تصور ہے کہ اگر آپ اس کا تجزیہ کر کے دیکھیں تو آپ کو حیرت ہوگی کہ کیسا جاہلانہ خیال ہے لیکن ہماری نسلوں کو اسی جاہلانہ خیال سے مذہب سے دور پھینکا جاتا ہے۔ان ممالک میں اور خصوصاً امریکہ میں جب بچہ جوان ہورہا ہو یا بیٹی بڑی ہورہی ہو اور بلوغت کی عمر کو پہنچ رہی ہو تو اس کے سکول کی طرف سے اس کے گرد و پیش کی طرف سے اس کے دوستوں کی طرف سے اس کو پیغام ملتا ہے کہ مبارک ہو اب تم آزاد ہورہے ہو۔اے بچواب تم آزادی کے قریب پہنچ رہے ہو اور اس عمر میں داخل ہور ہے ہو کہ تمہیں اپنے ماں باپ کی اقدار کی پیروی کرنے کی ، مذہبی اقدار کی پیروی کرنے کی اخلاقی قدروں کی پیروی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔یہ ساری فرسودہ باتیں ہیں۔اس وقت تک یہ تم پر لازم ہیں جب تک تم ماں باپ کے گھر میں رہنے کے پابند ہو جب تک ان کو کچھ اختیار ہے کہ تمہاری اخلاقی تعمیر میں کچھ کوشش کریں۔اٹھارہ سال کی عمر کو پہنچ گئے اب تم آزاد ہو جس کے ساتھ چاہو راتیں بسر کرو جو چاہو گند کرو جس قسم کے ٹیکے لگوانے ہیں لگواؤ یہ دنیا چند روزہ ہے جیسے عیش کرنے ہیں عیش کر لو تمہیں اب کوئی پوچھ نہیں سکتا کوئی روک نہیں سکتا تم مادر پدر آزاد ہو۔اب مادر پدر آزاد ہونے کا جو یہ محاورہ ہے یہ اردو کا محاورہ ہے اور اس زمانہ میں بنا تھا جب مادر پدر آزاد ہوتا ہی کوئی نہ تھا کوئی قسمت کا مارا کہیں آزاد ہو جا تا ہوگا لیکن یوں لگتا ہے جیسے پیشگوئی کی گئی تھی اور یہ پیشگوئی سب سے زیادہ امریکہ پر صادق آ رہی ہے۔وہاں پر بچہ بلوغت سے پہلے بھی مادر پدر آزاد ہونے کی کوشش کرتا ہے، نہ ماں کا اثر رہے نہ باپ کا اثر رہے اور معاشرہ اس کو یہ دھوکہ دیتا ہے اور شیطان اس کے کانوں میں یہ بات پھونکتا ہے کہ تم آزاد ہو اب تمہیں ان پابندیوں کی کیا ضرورت ہے۔