سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 283 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 283

283 الصلوۃ والسلام میں خان بہادر قاضی عبد القادر خان صاحب پشاور شہر کا ذکر بھی اہمیت رکھتا ہے۔آپ نے 25 اگست 1889ء میں بیعت کی۔بیعت لدھیانہ میں تو شامل نہیں ہوئے لیکن اسی سال بیعت کر لی۔قاضی محمد حسن صاحب ” خان العلماء جو پشاور شہر کے رئیس تھے اور وزیر افغانستان رہے ہیں ان کے یہ پوتے تھے۔خان بہادر قاضی عبد القادر خان ان کی اولاد کے متعلق ہمیں علم نہیں کہ کہاں گئی ، کیا ہوا؟ یہ سرحد کی جماعتوں کا کام ہے کہ ان کو تلاش کریں۔پھر حضرت مولانا غلام حسن خان صاحب پشاوری ہیں جو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے خسر تھے۔حضرت قاضی عبد الرحمن صاحب محلہ باقر شاہ پشاور ، حضرت مولانا غلام حسین خان صاحب کی بیعت 18 مئی 1890ء کی ہے اور حضرت قاضی عبد الرحمن کی بیعت 28 دسمبر 1890 ء کی ہے۔پھر حضرت سید احمد شاہ صاحب میر بادشاہ صاحب پشاور ہیں۔انہوں نے 20 فروری 1892 ء کو بیعت کی۔پھر سید الشہداء حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔آپ نے دسمبر 1900ء میں بیعت کی۔پھر حضرت مولوی حبیب اللہ صاحب بانڈی ڈھونڈاں ایبٹ آباد بیعت اکتوبر 1901ء پھر حضرت مولوی محمد یحیی صاحب دیپ گراں ہزارہ بیعت 1902 ء ، یہ ڈاکٹر سعید احمد صاحب جو لاہوری جماعت کے موجودہ امیر ہیں ان کے والد تھے۔پھر قاضی محمد یوسف صاحب فاروقی ، ڈاکٹر قاضی مسعود احمد صاحب جو آج کل شکاگو میں ہیں ان کے والد ہیں اور ان کی نسل بھی اللہ کے فضل سے احمدیت پر مضبوطی سے قائم ہے اور اکثر نیکیوں میں آگے آگے ہے۔پھر حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب ہیں جن کو شیر خدا کا لقب عطا ہوا۔انہوں نے مئی 1902ء میں بیعت کی تھی۔پھر مکرم امیر اللہ خان صاحب صحابی آف اسماعیلہ۔ان کی اولاد میں ایک کے سوا باقی سب خدا کے فضل سے مخلص احمدی ہیں۔ہمارے بشیر احمد خان رفیق صاحب جو امام صاحب کہلاتے ہیں ان کی بیگم کے دادا تھے۔دیگر بزرگان جن کی اولاد مخلص احمدی ہے یا اکثریت اللہ کے فضل سے اچھی مخلص احمدی ہے ان میں قاضی محمد شفیق صاحب ہیں، حضرت مولوی محمد الیاس صاحب ہیں جو ڈاکٹر حامد اللہ خاں صاحب کے دادا اور بشیر احمد خان رفیق صاحب کے نانا تھے ، خان بہادر دلاور خان صاحب کا ذکر ہو چکا ہے، صاحبزادہ ہاشم جان صاحب مجد دی ان کی ایک ہی بیٹی ہے وہ خدا کے فضل سے زندہ ہیں اور بڑی مخلص احمدی ہیں۔مرزا غلام حید ر صاحب ہمارے مرزا مقصود احمد صاحب وغیرہ کے والد تھے، یہ مشہور خاندان ہے۔کرنل صاحبزادہ احمد خانصاحب ساکن مٹھا ضلع مردان، صاحبزادہ سیف الرحمن صاحب بازید خیل منشی محمد دانش مند خانصاحب جو بشیر رفیق خان صاحب کے والد تھے ( فوت ہو چکے ہیں )، مکرم محمد اکرم خان صاحب درانی ، ان کے بیٹے محمد باشم خان صاحب کے بیٹے کی شادی چوہدری فتح محمد صاحب سیال کی بیٹی سے ہوئی تھی۔فقیر محمد خان صاحب ایگزیکٹیو انجینئر خان بہادر محد علی خان صاحب بنگش آف کو ہاٹ ، مکرم محمد خواص خانصاحب آف رشکی جو ڈاکٹر