سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 281 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 281

281 رکھ رہے ہیں جو گویا نہ ہونے کے برابر ہے لیکن جب بھی ان سے رابطہ ہوا ہے اُن کے آبا ؤ اجداد کے ذکر سے ان کو واپس آنے کی نصیحت کی ہے تو خدا کے فضل سے نیک اثر پیدا ہوا ہے یوگنڈا کے دورہ کے وقت بھی ، کینیڈا کے دورہ کے وقت بھی ایسے خاندان مجھے ملے کہ جب ان کے آباء کا ذکر کیا گیا تو ایک دم آنکھیں چمک اُٹھیں اور ایک ذاتی تعلق پیدا ہوتا ہوا دکھائی دے رہا تھا اور پھر احمدیت کے ساتھ تعلق ساتھ ساتھ قائم ہوتا چلا گیا تو یہ ایک گر ہے جو قرآن نے ہمیں سکھایا ہے اسے استعمال کریں پھر دیکھیں کہ انشاء اللہ تعالیٰ آپ کی آئندہ نسلوں کی اعلیٰ اقدار کی حفاظت ہوگی اور وہ اقدار جو مٹ چکی ہیں انہیں از سرنو زندہ کیا جا سکے گا۔مثال کے طور پر میں نے صوبہ سرحد کے بعض بزرگوں کے نام پیش نظر رکھے ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ نے ایک دفعہ صوبہ سرحد کے بزرگوں کا خصوصیت سے ذکر فرمایا اور یہ بیان کیا کہ ان کے علم کے مطابق کوئی اور ایسا صوبہ، کوئی اور ایسا ملک نہیں جس میں صوبہ سرحد کی طرح بڑے لوگوں نے احمدیت کی طرف توجہ کی ہو اور جس کثرت کے ساتھ صوبہ سرحد میں بڑے بڑے لوگوں نے احمدیت کی طرف توجہ کی ہے اور خدمت دین میں اعلیٰ نمونے قائم کیے ہیں حضرت مصلح موعود فر ماتے ہیں کہ اس کی کوئی اور مثال دکھائی نہیں دیتی۔اس مضمون کو پکڑتے ہوئے میں آج بعض مثالیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں تا کہ خصوصیت سے صوبہ سرحد جہاں یہ اجتماع ہورہا ہے ان کو اپنے آباء کا ذکر سن کو خوشی ہو اور طبیعت میں ولولہ پیدا ہو اور وہ اپنی آئندہ نسلوں کو بتائیں کہ ہم کون تھے اور ہماری زندگی کا پانی کن پاک چشموں سے پھوٹا تھا جو رفتہ رفتہ اب دریا بنتا چلا جارہا ہے۔بعض چھوٹے چھوٹے خاندان پھیلتے پھیلتے اب اس طرح پھیل چکے ہیں کہ سب دنیا میں پھیل چکے ہیں اور مستحکم ہو چکے ہیں۔تو اس رنگ میں اس ذکر خیر سے میں امید رکھتا ہو کہ ان کے اندر ایک نئی زندگی پیدا ہوگی اور آج میں نے یہ جو گاؤن پہنا ہوا ہے یہ بھی خصوصیت سے اس وجہ سے پہنا ہے کہ یہ صوبہ سرحد کا گاؤن ہے۔میں نے سوچا کہ ان کو سرحد کی تاریخ یاد کراتے ہوئے گاؤن بھی وہ بہنوں جو ان کو دکھائی دے کہ یہ ہمارے ملک کا ہے اور زیادہ اپنائیت محسوس ہو۔اب میں حضرت مصلح موعود " کا یہ اقتباس آپ کے سامنے پڑھ کر سناتا ہوں آپ فرماتے ہیں۔اس صوبہ میں ( یعنی صوبہ سرحد میں ) بڑے بڑے خاندانوں کے لوگ احمدی ہوئے ہیں۔پنجاب کے احمدیوں میں اس قسم کا اثر ورسوخ رکھنے والے ہزار میں سے ایک بھی نہیں ( یہ دیکھیں، کتنا فرق نمایاں آپ نے دکھایا ) لیکن صوبہ سرحد میں ہر سواحمد یوں میں سے ایک دوا ایسے ہیں جو چوٹی کے خاندانوں میں سے ہیں۔پنجاب میں تو کوئی ایک دو ہو گئے جیسے نواب محمد علی خان صاحب رئیس یا ملک عمر علی صاحب ہیں مگر صوبہ سرحد میں خاندانی وجاہت اور اثر و رسوخ رکھنے والے کئی ہیں۔مثلاً صاحبزادہ عبدالقیوم صاحب کے بھائی بہت بڑے خاندان میں سے ہیں ( مراد حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب سے ہے جو صاحبزادہ عبدالحمید