سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 275
275 لوگ جو نیک لوگوں کی اولاد ہوں مگر نمازوں کو ضائع کر دیں اور اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی شروع کر دیں وہ ضرور بالآخر غیا تک پہنچتے ہیں۔غیا کا ایک ترجمہ ”الضلال“ ہے یعنی گمراہی گویا ان کا گمراہی کی طرف سفر شروع ہو جاتا ہے پھر ہے ” الخیب“ وہ ضرور نا کامی کا منہ دیکھتے ہیں۔پھر اس کا ترجمہ ہے الانهماك في الجہل بے وقوفی اور جہالت میں وہ اپنا وجود کھو دیتے ہیں یعنی کامل طور پر بے وقوفی اور جہالت کے ہو رہتے ہیں ، جہالتوں میں غرق ہو جاتے ہیں۔پھر ہے الہلاک اور ہلاک ہو جاتے ہیں۔پس وہ قومیں جن کا آغاز مذہبی ہو اور جن کا آغاز اللہ کے حضور تقویٰ کے ساتھ شروع ہوا ہو۔ان لوگوں کی اولادیں اگر نماز سے ہٹ جائیں اور نفسانی خواہشات کی پیروی شروع کر دیں تو یہ وہ انجام ہیں ، جن تک وہ ضرور پہنچیں گے۔اگر ہم آئندہ نسلوں کے نگران بنے تو پھر ہمیں کوئی خطرہ نہیں اس دور میں یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ہم نے جماعتوں کے حالات کا جہاں تک مطالعہ کیا ہے اور غور کیا ہے۔یہ آیت ہر پہلو سے بلا شبہ صادق آتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔واقعہ یہ ہے کہ نیک لوگ جو خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ خود ایمان لاتے ہیں اور سچائی کو قبول کرتے ہیں وہ شاذ و نادر کے طور پر ضائع ہوتے ہیں ورنہ ان کی بھاری اکثریت کامل وفا کے ساتھ آخر تک اس پیغام کے ساتھ چمٹی رہتی ہیں اور وہ ہرلحہ نیکیوں اور تقویٰ میں ترقی کرتے چلے جاتے ہیں ان کے ضائع ہونے کا کوئی خطرہ نہیں کبھی آپ نے نہیں دیکھا ہوگا کہ انبیاء کی جماعتیں خود ضائع ہو گئی ہوں۔ہاں جب انبیاء کی جماعتیں گزر جاتی ہیں اور ان کی جگہ نئی نسلیں آجاتی ہیں تو وہاں سے خطرات شروع ہوتے ہیں۔پس قرآن کریم نے یہاں قومی بقا کا فلسفہ بیان فرمایا ہے اور ان خطروں سے متنبہ کیا ہے جن کے نتیجہ میں قومیں بالآخر تنزل، جہالت، گمراہی اور جہل اور ہلاکت کا شکار ہو جایا کرتی ہیں۔پس وہ تمام جماعتیں جو آج ان اجتماعات میں تربیت کی غرض سے حاضر ہورہی ہیں جن کا میں نے ذکر کیا ہے اور وہ تمام جماعتیں بھی جو اس خطبہ کو سن رہی ہیں، ان کو میں خصوصیت کے ساتھ اس آیت کے مضمون کی طرف متوجہ کرتا ہوں، ہمیں یعنی اس صدی کے سر پر کھڑے ہوئے لوگوں کو ایک نئے زمانے کے پہینچ کا سامنا ہے۔ہم ایسے جوڑ پر کھڑے ہیں جہاں ایک نسل ہی نہیں بلکہ ایک نسل کے بعد دوسری نسل بھی تقریباً گزر چکی ہے۔صحابہ کا زمانہ ختم ہوا اور شاذ کے طور پر برکت کے لئے دیکھنے کو ملتے ہیں اور وہ کبار تابعین جو صحابہ کے تربیت یافتہ تھے وہ بھی اکثر گزرچکے ہیں اور تابعین کا وہ گروہ باقی ہے جو چھوٹی عمر کا تھا اور ابھی اللہ کے فضل سے تابعین کا ایک طبقہ دنیا کی تمام جماعتوں میں نہیں تو بہت سی جماعتوں میں پھیلا ہوا دکھائی دیتا ہے اور ان سے بڑی توقع اور امید ہے کہ انشاء اللہ وہ نیکی کی اعلیٰ روایات کو اگلی نسلوں میں جاری کریں گے۔یہ وہ